پاکستان اردو اور علاقائی زبانوں کے لیے ’براق‘ نامی اپنا بڑا لسانی ماڈل تیار کر رہا ہے، جبکہ حکومت ایسی سرکاری کمپیوٹنگ صلاحیت حاصل کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے جس کے ذریعے پاکستانی ڈیٹا کو ملک کے اندر ہی پروسیس کیا جا سکے۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے سیول میں گلوبل اے آئی اینڈ ڈیجیٹل سمٹ 2026 کے دوران عالمی بینک کے ایک پینل سے خطاب میں اس منصوبے کی تفصیلات بیان کیں۔
وزیر کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ عوامی خدمات میں مصنوعی ذہانت کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے سے پہلے مضبوط ڈیجیٹل عوامی انفراسٹرکچر ضروری ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ماڈل کی چار بنیادی پرتیں بیان کیں: قابلِ اعتماد ڈیجیٹل شناخت، فوری ادائیگیوں کا نظام، محفوظ ادارہ جاتی ڈیٹا تبادلہ اور ڈیٹا گورننس کے حفاظتی اصول۔ ان کے مطابق اے آئی کو ان بنیادوں کے بعد آخری تہہ کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے تاکہ نظام قابلِ توسیع، محفوظ اور شہریوں کے اعتماد کے قابل ہو۔
ڈیجیٹل شناخت کے حوالے سے بتایا گیا کہ نادرا کا نظام دس کروڑ سے زیادہ پاکستانیوں کو تصدیق شدہ شناخت فراہم کرتا ہے اور اسے آن لائن شناخت و رضامندی کے نظام تک بڑھایا جا رہا ہے۔ ادائیگیوں کے لیے اسٹیٹ بینک کا راست فوری ادائیگی نظام سرکاری معاونت، سبسڈی یا دیگر مالی خدمات کی ڈیجیٹل ترسیل میں بنیادی ڈھانچہ فراہم کر سکتا ہے۔ حکومت کے مطابق مقصد یہ ہے کہ کسی اہل شہری یا گھرانے کی شناخت کے بعد مالی فائدہ ایک مربوط سرکاری نظام کے ذریعے پہنچایا جا سکے۔
ڈیٹا کے تبادلے کے لیے ’وصل‘ کو قومی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی مرکزی ایکسچینج پرت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ عالمی بینک کے تعاون سے جاری ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ سے منسلک ہے۔ سرکاری تفصیلات کے مطابق اداروں کے درمیان ڈیٹا کے ہر تبادلے کی تصدیق، انکرپشن اور لاگنگ کی جائے گی، جبکہ شہری کی رضامندی کو بھی نظام کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے اوپر شہریوں کے لیے سپر ایپ اور نیشنل اوپن ڈیٹا ایکو سسٹم قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔
حفاظتی فریم ورک کے طور پر نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی کو عوامی ڈیٹا کی درجہ بندی، اشتراک، تحفظ اور اشاعت کے لیے مشترکہ اصولوں کا مجموعہ قرار دیا گیا۔ وزیر کے مطابق اے آئی کو انسانی فیصلوں میں مدد دینی چاہیے لیکن کسی شہری کے حقوق یا سرکاری استحقاق کا فیصلہ خودکار طور پر اکیلے نہیں کرنا چاہیے۔
’براق‘ اور مقامی کمپیوٹ صلاحیت نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت مجوزہ اے آئی پرت کا حصہ ہیں۔ منصوبے کا مقصد زبان کی رکاوٹ کم کرنا اور حساس یا معاشی اہمیت کے حامل ڈیٹا کی پروسیسنگ پاکستان میں رکھنا ہے۔ تاہم ماڈل کے حجم، تربیتی ڈیٹا، تکنیکی کارکردگی، حتمی لانچ تاریخ اور عوامی دستیابی کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔ اس لیے براق کو اس مرحلے پر زیر تیاری قومی اے آئی منصوبہ سمجھنا زیادہ درست ہے، نہ کہ مکمل طور پر جاری شدہ عوامی سروس۔

