واشنگٹن: امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے دو روز قبل مشی گن کی ڈیموکریٹ رکن کانگریس ہیلی اسٹیونز نے ریپبلکن سینیٹ امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے، جس سے ایک اہم انتخابی ریاست میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ ڈان میں شائع ہونے والی رائٹرز رپورٹ کے مطابق اسٹیونز خود ڈیموکریٹک پرائمری میں عبدال السید سے ہار گئی تھیں اور اب انہوں نے اپنے ہی جماعتی امیدوار کی حمایت سے انکار کیا ہے۔

اسٹیونز نے اتوار کو راجرز کے ساتھ ڈیٹرائٹ کے ایک چرچ میں شرکت کی اور ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ عبدال السید کی انتخابی مہم میں خود کو شامل نہیں سمجھتیں۔ یہ اعلان اس روز سامنے آیا جب انہیں السید کے ساتھ ایک تقریب میں پارٹی اتحاد کا مظاہرہ کرنا تھا، تاہم دونوں کی انتخابی ٹیموں کے درمیان کشیدگی کے بعد یہ منصوبہ ختم ہوگیا۔

رائٹرز کے مطابق اختلاف کا ایک سبب ایک بیرونی سیاسی گروپ کا اشتہار بھی بنا جس پر اسٹیونز نے اعتراض کیا اور کہا کہ اس میں اسرائیل کو مہنگی اشیائے خورونوش سے جوڑنے کا پیغام دیا گیا۔ عبدال السید کی مہم نے اسٹیونز سے انتخابی دن تک اپنی تقریبات سے دور رہنے کو کہا تھا تاکہ مہم کے بنیادی موضوعات سے توجہ نہ ہٹے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیونز کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور انہیں ریپبلکن پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ ٹرمپ نے عبدال السید کے بارے میں سخت اور متنازع زبان بھی استعمال کی، جسے رائٹرز نے عرب اور مسلم امریکیوں کو ہدف بنانے والے وسیع سیاسی بیانیے کا حصہ قرار دیا۔ دوسری جانب عبدال السید نے کہا کہ انتخابی دوڑ کا مرکز کسی ایک سیاست دان کے بجائے مشی گن کے ووٹرز اور ان کے مسائل ہیں۔

امریکی وسط مدتی انتخابات میں 35 سینیٹ نشستوں اور ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر ووٹنگ ہونا ہے۔ ریپبلکنز دونوں ایوانوں میں محدود اکثریت رکھتے ہیں، جبکہ سرویز کے مطابق ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہیں اور سینیٹ کی دوڑ چند اہم ریاستوں، خصوصاً مشی گن اور الاسکا، پر منحصر ہو سکتی ہے۔

اسٹیونز کی حمایت کے باوجود ایک نیویارک ٹائمز/سیئنا سروے میں عبدال السید کو مائیک راجرز پر 53 فیصد کے مقابلے میں 42 فیصد برتری دکھائی گئی۔ السید کی مہم کے مطابق اسٹیونز کے اعلان کے بعد چار گھنٹوں میں 12 لاکھ ڈالر کے عطیات بھی جمع ہوئے۔ ان اعداد و شمار سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ حمایت کی تبدیلی کا حتمی انتخابی نتیجے پر کتنا اثر پڑے گا۔

رپورٹس کے مطابق اسٹیونز کے بعض کانگریسی عملے نے ان کے فیصلے کے بعد استعفے دیے۔ یہ پیش رفت مشی گن کی دوڑ کو قومی سطح پر مزید اہم بنا رہی ہے کیونکہ سینیٹ کا کنٹرول صدر ٹرمپ کے آخری دو برسوں کے قانون سازی ایجنڈے، نگرانی اور کانگریسی تحقیقات پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ حتمی فیصلہ بہرحال ووٹرز کے انتخاب اور سرکاری نتائج سے ہوگا۔