واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے آٹھ اکتوبر 2026 کو اعلان کیا کہ وفاقی حکومت مائیکروسافٹ کو اس پروگرام سے معطل کر رہی ہے جس کے ذریعے ہنرمند غیر ملکی کارکن امریکہ میں مستقل رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وینس نے اس اقدام کے لیے مبینہ دھوکہ دہی کا حوالہ دیا۔ اس بیان کو کسی عدالت کی طرف سے مائیکروسافٹ کے خلاف دھوکہ دہی ثابت ہونے کے فیصلے کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔
وزیر محنت کیتھ سونڈر لنگ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ دنیا کی کئی بڑی انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی متعلقہ پروگرام سے معطل کیا جائے گا۔ روئٹرز کے مطابق انہوں نے کوگنیزنٹ، انفوسس، ٹاٹا، وپرو، ایچ سی ایل، کیپ جیمنی اور ایڈوب کے نام لیے۔ اعلان میں متعدد ادارے شامل ہونے کے باعث اس کے ممکنہ اثرات صرف ایک کمپنی کے ملازمین تک محدود نہیں رہ سکتے، تاہم کسی فرد کے امیگریشن معاملے پر اس اقدام کا عملی اثر سرکاری طریقہ کار اور متعلقہ قواعد پر منحصر ہوگا۔
روئٹرز کی خبر کے وقت مائیکروسافٹ کی جانب سے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست پر فوری جواب موصول نہیں ہوا تھا۔ اس لیے کمپنی کا مؤقف خبر کے اس مرحلے پر دستیاب نہیں تھا۔ حکومتی نمائندوں کے الزامات کو متعلقہ اداروں کا تسلیم شدہ اعتراف قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ معطلی کا سرکاری اعلان اور مبینہ خلاف ورزیوں کی قانونی حیثیت دو الگ باتیں ہیں۔
امریکی وزیر محنت نے مزید کہا کہ نو جامعات کے بارے میں بھی تحقیقات ہوں گی۔ ان میں ہارورڈ، ییل اور اسٹینفورڈ جیسے اداروں کے نام شامل ہیں۔ ان تحقیقات کا تعلق اس الزام سے بتایا گیا کہ بین الاقوامی طلبہ کو امریکی اجرتوں پر منفی اثر ڈالنے کی غرض سے لایا گیا۔ محکمہ محنت کے انسپکٹر جنرل انتھونی ڈی ایسپوزیٹو نے بتایا کہ متعلقہ معاملے میں قانونی طلبی کے نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ تحقیقات کے آغاز سے کسی جامعہ کی خلاف ورزی ثابت نہیں ہوتی۔
اس اعلان نے امریکہ کی ٹیکنالوجی صنعت، عالمی ہنرمند افرادی قوت اور تعلیمی اداروں سے متعلق پالیسی پر ایک نیا سوال کھڑا کیا ہے۔ تاہم خبر میں کسی عدالت کے حتمی فیصلے، کمپنیوں کے خلاف ثابت شدہ جرم یا تمام متعلقہ ملازمین کے رہائشی حقوق کے یکساں خاتمے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ آئندہ پیش رفت میں سرکاری ضوابط، کمپنیوں کے جوابات اور تحقیقات کے نتائج اہم ہوں گے۔

