اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے ارکان نے کان کنوں کے قانونی اور سماجی تحفظ کے لیے مائن لیز کے اجرا کو کارکنوں کی ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن، یعنی EOBI، میں رجسٹریشن سے مشروط کرنے کی تجویز دی ہے۔ کمیٹی نے بار بار پیش آنے والے کان حادثات اور کم آمدن والے مزدوروں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

سید رفیع اللہ کی زیر صدارت اجلاس میں ارکان نے کہا کہ مائن لیز رکھنے والے مالکان یا منیجرز کو کارکنوں کی مکمل حفاظت، فلاح اور حادثے کی صورت میں معاوضے کی ذمہ داری پوری کرنے کا پابند بنایا جائے۔ ابتدائی تجویز کے مطابق کان کنوں کی EOBI رجسٹریشن کو لیز جاری ہونے کی پیشگی شرط بنایا جائے اور لیز ہولڈرز صوبائی محکمہ محنت اور محکمہ معدنیات کو ہر تین ماہ بعد کارکنوں کی رجسٹریشن سے متعلق رپورٹ دیں۔

کمیٹی ارکان نے یہ بھی کہا کہ کسی حادثے کی صورت میں غیر رجسٹرڈ کارکنوں کو معاوضے سے مکمل طور پر محروم نہ رکھا جائے اور ان کے لیے بھی قانونی یا پالیسی سطح پر تحفظ پر غور کیا جائے۔ یہ تجاویز ابھی حتمی قانون نہیں ہیں؛ ان پر متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں، قانونی فریم ورک اور ممکنہ قانون سازی کے ذریعے عمل درآمد کی ضرورت ہوگی۔

اجلاس میں ورکرز ویلفیئر فنڈ کے وسائل سے متعلق بھی سفارش کی گئی کہ فنڈز کو منافع دینے والے اکاؤنٹس میں رکھا جائے تاکہ حاصل ہونے والی آمدن مزدوروں کی فلاح پر خرچ کی جا سکے۔ اس تجویز کا مقصد موجودہ وسائل سے اضافی مالی فائدہ پیدا کرکے فلاحی سرگرمیوں کی گنجائش بڑھانا بتایا گیا۔

کمیٹی نے Employees’ Old-Age Benefits (Amendment) Bill, 2026 پر بحث اگلے اجلاس تک مؤخر کر دی اور کہا کہ زیادہ کنٹری بیوشن ریٹس کے معاملے کو نئی ترامیم کے ساتھ دوبارہ جانچا جائے۔ کان کنی پاکستان کے ان شعبوں میں شامل ہے جہاں زیر زمین خطرات، حفاظتی ضابطوں کی خلاف ورزی اور حادثات مزدوروں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ کمیٹی کی تجویز اس خلا کو سماجی تحفظ کی رجسٹریشن اور لیز کے انتظامی اختیار کو آپس میں جوڑ کر کم کرنے کی کوشش ہے، تاہم اس کی قانونی حیثیت تبھی بنے گی جب متعلقہ حکام اسے ضابطے یا قانون کی شکل دیں گے۔