کراچی: سندھ حکومت نے میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کے لیے مجوزہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں نمائندگی کے لیے انٹر سروسز انٹیلی جنس، انٹیلی جنس بیورو، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اور سندھ رینجرز سے سینئر افسران کے نام طلب کر لیے ہیں۔ یہ اقدام اس عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کا حصہ ہے جس نے کیس کی سابقہ تفتیش میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔

ڈان کے مطابق 25 سالہ کاروباری میر رضا علی 28 جولائی کو پی ای سی ایچ ایس میں اپنے گھر سے نکلنے کے بعد لاپتا ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستان جوہر میں جھاڑیوں سے ملی تھی۔ عدالتی کمیشن نے 15 اکتوبر کو اپنی رپورٹ سندھ حکومت کو پیش کی اور ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کو قابل عمل راستہ قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق کمیشن کی سربراہی سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال نے کی۔ کمیشن نے سفارش کی کہ آئی ایس آئی، آئی بی، سندھ رینجرز اور این سی سی آئی اے کے سینئر نمائندوں کو تحقیقات میں شامل کیا جائے تاکہ معاملے کی جامع اور قابل اعتماد جانچ ممکن ہو۔ مغربی زون کے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کو جے آئی ٹی کی سربراہی کے لیے تجویز کیا گیا تھا۔

سندھ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے 23 اکتوبر کے خطوط میں متعلقہ اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ گریڈ 18 سے کم نہ ہونے والے افسران کو سات روز کے اندر نامزد کریں۔ این سی سی آئی اے سے خاص طور پر ڈیجیٹل فرانزک مہارت رکھنے والے افسر کی نامزدگی مانگی گئی ہے کیونکہ کیس میں موبائل فونز، ایپل واچ، آئی کلاؤڈ، سوشل میڈیا اور کرپٹو کرنسی ریکارڈ کے تجزیے کی ضرورت بتائی گئی ہے۔

عدالتی کمیشن نے پولیس کی ابتدائی تفتیش میں طریقہ کار کی سنگین خلاف ورزیوں اور شواہد سنبھالنے میں کمزوریوں کی نشاندہی کی۔ کمیشن نے یہ نتیجہ نہیں دیا کہ لازماً پردہ پوشی ہوئی، تاہم اپنی رپورٹ میں کہا کہ بعض اقدامات ایسے تھے جن سے اس امکان کو قطعی طور پر خارج کرنا مشکل ہے۔ رپورٹ میں بعض پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی اور مزید جانچ کی سفارش بھی کی گئی۔

صوبائی حکومت نے پولیس افسران کے کردار کے جائزے اور کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے الگ اقدامات بھی شروع کیے ہیں۔ جے آئی ٹی کی عملی تشکیل متعلقہ اداروں کی نامزدگیاں مکمل ہونے کے بعد ہوگی، اس لیے اس مرحلے پر نئی ٹیم کی تحقیقات کے نتائج کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔