کراچی: سندھ میں ایم پاکس سے ایک اور بچے کی موت کے بعد صوبے میں رواں سال اس وائرل بیماری سے ہونے والی اموات کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔ سندھ انفیکشس ڈیزیز اسپتال کے ترجمان کے مطابق کراچی کا رہائشی بچہ نیپا میں قائم اسپتال میں زیر علاج تھا اور علاج کے دوران انتقال کرگیا۔ مریض کو چند روز قبل ایک نجی اسپتال سے سرکاری متعدی امراض کے مرکز منتقل کیا گیا تھا۔
صوبائی صحت حکام کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں ایم پاکس کے رپورٹ شدہ کیسز کی مجموعی تعداد 98 ہوگئی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سات نئے کیسز سامنے آنے کے بعد نگرانی، متاثرہ افراد کے قریبی رابطوں کی تلاش اور علاج کے انتظامات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ کراچی میں صوبے کے سب سے زیادہ 26 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ خیرپور میں 22، سکھر میں نو اور حیدرآباد میں پانچ کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق ایم پاکس قریبی جسمانی رابطے، جلد کے زخموں، چھالوں اور متاثرہ شخص کی استعمال شدہ آلودہ اشیا، کپڑوں، تولیوں یا بستر کے ذریعے منتقل ہوسکتا ہے۔ بخار، جسم میں درد، لمف نوڈز کی سوجن اور غیر معمولی جلدی دانے یا زخم اس کی عام علامات میں شامل ہیں۔ شیر خوار بچوں، کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد اور دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوں میں پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔
ایک الگ پیش رفت میں سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے ملیر 15 میں ابن حسن اسپتال کو انفیکشن کنٹرول سے متعلق خدشات کے بعد سیل کردیا۔ حکام کے مطابق 20 دن کے ایک نومولود میں ایم پاکس کی لیبارٹری تصدیق کے بعد اسپتال میں جراثیم سے پاک آلات اور طبی طریقہ کار سے متعلق سوالات سامنے آئے تھے۔ یہ معاملہ زیر جائزہ ہے اور کسی مخصوص ذریعے سے انفیکشن منتقل ہونے کی حتمی ذمہ داری ابھی طے نہیں کی گئی۔
صحت حکام نے سرکاری اور نجی مراکز کو مشتبہ مریضوں کی جانچ کے دوران حفاظتی سامان اور انفیکشن سے بچاؤ کے مقررہ طریقوں پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عوام کو بھی مشتبہ یا تصدیق شدہ مریض کے جلدی زخموں سے براہ راست رابطہ نہ کرنے، ذاتی اشیا مشترک استعمال نہ کرنے اور شدید علامات کی صورت میں فوری طبی مدد لینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
