اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب اور ملک کے کنٹونمنٹ علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے تیاریوں اور متعلقہ قانونی و انتظامی اقدامات کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیشن نے متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات میں مزید تاخیر سے بچنے کے لیے ضروری قواعد، حلقہ بندیوں اور دیگر انتظامی مراحل کو بروقت مکمل کیا جائے۔

بلدیاتی انتخابات آئینی اور قانونی طور پر مقامی سطح پر منتخب نمائندگی کا بنیادی ذریعہ ہیں، تاہم پنجاب میں مقامی حکومت کے قانونی ڈھانچے میں بار بار تبدیلیوں اور حلقہ بندیوں سے متعلق معاملات کے باعث انتخابی عمل طویل عرصے سے تاخیر کا شکار رہا ہے۔ الیکشن کمیشن اس سے قبل بھی صوبائی حکومت سے انتخابی فریم ورک واضح کرنے اور ضروری معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

تازہ پیش رفت میں کمیشن نے اس مؤقف کو دہرایا کہ مقامی حکومتوں کی مدت ختم ہونے یا اداروں کے غیر فعال ہونے کے بعد انتخابات کا انعقاد غیر معینہ مدت تک مؤخر نہیں کیا جاسکتا۔ انتخابی شیڈول جاری کرنے سے پہلے حلقہ بندیوں، انتخابی فہرستوں، وارڈز کی حدود اور متعلقہ قانونی قواعد کا حتمی ہونا ضروری ہے، اس لیے کمیشن نے انتظامی اداروں کو ان مراحل میں تعاون کی ہدایت کی ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈ علاقوں میں بھی منتخب مقامی نمائندگی کے لیے انتخابی انتظامات الگ قانونی فریم ورک کے تحت کیے جاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے وفاقی سطح کے متعلقہ اداروں سے ضروری معلومات اور انتظامی تعاون طلب کیا ہے تاکہ کنٹونمنٹ علاقوں میں انتخابی عمل بھی قانون کے مطابق آگے بڑھ سکے۔

کمیشن کی سرگرمی کا مقصد انتخابات کی راہ میں موجود انتظامی رکاوٹوں کو دور کرنا اور متعلقہ حکومتوں کو واضح ٹائم لائن کی طرف لانا ہے۔ تاہم حتمی پولنگ تاریخوں کا انحصار قانونی تقاضوں کی تکمیل، حلقہ بندیوں اور انتخابی پروگرام کے باضابطہ اجرا پر ہوگا۔

بلدیاتی انتخابات کی تاخیر کا معاملہ پاکستان میں کئی برس سے سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع ہے۔ مقامی حکومتوں کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ منتخب بلدیاتی ادارے شہری خدمات، ترقیاتی ترجیحات اور مقامی احتساب کے لیے ضروری ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن کی حالیہ ہدایات اسی انتخابی عمل کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔