کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے کراچی کی ضلعی عدالتوں میں زیر التوا منشیات سے متعلق مقدمات کو سندھ کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنسز قانون کے تحت قائم پانچ خصوصی عدالتوں میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت عالیہ کی انتظامی ہدایات کے تحت شہر کے پانچوں ضلعی و سیشن ججوں کو مقدمات کی منتقلی یقینی بنانے اور عمل درآمد سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
ہائیکورٹ کے ممبر انسپکشن ٹیم-II کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ زیر التوا مقدمات کو 17 اکتوبر کو جاری کیے گئے علاقائی دائرہ اختیار کے مطابق متعلقہ خصوصی عدالتوں کے سپرد کیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد منشیات کے مقدمات کو ان عدالتوں میں یکجا کرنا ہے جو خصوصی قانون کے تحت ان کی سماعت کے لیے تشکیل دی گئی ہیں۔
کراچی کی عام ضلعی عدالتوں میں منشیات سے متعلق بڑی تعداد میں مقدمات زیر سماعت رہے ہیں۔ خصوصی عدالتوں کو منتقلی کے بعد ایسے مقدمات کی سماعت ایک مخصوص قانونی اور انتظامی فریم ورک کے تحت ہوگی، جس سے مقدمات کی تقسیم اور عدالتی نگرانی زیادہ منظم ہونے کی توقع ہے۔ تاہم مقدمات کے فیصلوں کی رفتار کا انحصار خصوصی عدالتوں میں ججوں، پراسیکیوشن، تفتیشی ریکارڈ اور گواہوں کی دستیابی سمیت عملی عوامل پر بھی رہے گا۔
عدالتی ہدایت میں ضلعی ججوں کو صرف فائلیں منتقل کرنے کے بجائے عمل درآمد کی باقاعدہ تصدیق کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ اس طرح سندھ ہائیکورٹ کی انسپکشن ٹیم یہ جائزہ لے سکے گی کہ مختلف اضلاع میں موجود مقدمات مقررہ دائرہ اختیار کے مطابق صحیح خصوصی عدالت تک پہنچے ہیں یا نہیں۔
منشیات کے مقدمات میں تفتیش، مال مقدمہ، کیمیائی تجزیے اور گواہوں کی پیشی جیسے مراحل اکثر عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ نئی انتظامی تقسیم ان مقدمات کے لیے عدالتوں کی ذمہ داری واضح کرتی ہے، لیکن مؤثر نتائج کے لیے پولیس، پراسیکیوشن اور متعلقہ فرانزک و انتظامی اداروں کے درمیان بروقت رابطہ بھی ضروری ہوگا۔
