اسلام آباد میں وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر ینگ منگ یانگ کے درمیان ملاقات میں مین لائن ون کے کراچی-روہڑی حصے کی اپ گریڈنگ، ممکنہ مالی معاونت اور پاکستان ریلوے کی اصلاحات پر گفتگو ہوئی۔ وزارت ریلوے کے سرکاری بیان کے مطابق حکومت اس حصے کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے رواں مالی سال میں سنگ بنیاد رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاہم ملاقات کے اعلامیے میں قرض کی حتمی منظوری یا تعمیراتی معاہدہ مکمل ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
وزیر ریلوے نے کراچی سے روہڑی تک ایم ایل ون اپ گریڈ کی تخمینی لاگت تقریباً 2.5 ارب ڈالر بتائی اور کہا کہ منصوبے کو تین برس میں مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ وزیراعظم کی ہدایات کے تحت 183 کلومیٹر طویل نوابشاہ-روہڑی حصے کو ترجیحی بنیاد پر لینے کی بات بھی کی گئی۔ یہ لاگت اور مدت حکومتی تخمینے اور ہدف ہیں؛ حتمی رقم، تعمیراتی شیڈول اور مرحلہ بندی مالی منظوری، تفصیلی ڈیزائن، خریداری اور ٹھیکہ جاتی کارروائی کے بعد تبدیل ہوسکتے ہیں۔
حنیف عباسی نے اے ڈی بی سے منصوبے کے لیے ’’سنٹرل انویسٹمنٹ لون‘‘ کی منظوری کا عمل تیز کرنے کی درخواست کی۔ درخواست اور منظوری میں واضح فرق ہے: سرکاری پریس ریلیز نے بینک کے تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی بیان کی، لیکن مخصوص قرض کی منظوری، رقم کے اجرا، شرح یا شرائط کا اعلان نہیں کیا۔ حکومت نے روہڑی سے پشاور تک باقی ایم ایل ون حصوں کے لیے بھی اے ڈی بی اور دوسرے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مالی تعاون جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔
وزیر ریلوے کے مطابق ایم ایل ون کی بہتری سے کراچی اور لاہور کے درمیان سفر کا وقت تقریباً پانچ گھنٹے کم ہوسکتا ہے۔ حکومت کو توقع ہے کہ بہتر پٹڑی، سگنلنگ اور متعلقہ نظام سے ٹرین کی رفتار، مسافر سہولت، حفاظت، آپریشنل کارکردگی اور مال برداری کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ یہ تمام نتائج منصوبے کے متوقع فوائد ہیں، ابھی حاصل شدہ کارکردگی نہیں؛ ان کی تصدیق منصوبہ مکمل ہونے اور نئی سہولت کے عملی استعمال کے بعد ہوگی۔
ملاقات میں پاکستان ریلوے کی مالی پائیداری، حکمرانی، آمدن اور آپریشن بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزارت نے بنیادی ڈھانچے کی اپ گریڈنگ، بعض سرگرمیوں کی آؤٹ سورسنگ، ڈیجیٹل نظام، عوامی و نجی شراکت داری اور نجی سرمایہ کاری کو جاری اصلاحاتی سمتوں کے طور پر بیان کیا۔ مال بردار ریل کو سڑک کے مقابلے میں معاشی طور پر مؤثر بنانے اور فریٹ رفتار و گنجائش بڑھانے کے منصوبے کا ذکر بھی کیا گیا، لیکن کسی نئے آؤٹ سورسنگ معاہدے یا فریٹ ہدف کی الگ تفصیل جاری نہیں ہوئی۔
اے ڈی بی کے نائب صدر نے ریلوے اصلاحات اور جدیدکاری کے لیے تعاون جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔ ایسی سفارتی و ترقیاتی ملاقاتیں مالیاتی مذاکرات آگے بڑھانے کا ذریعہ ہوتی ہیں، مگر حتمی قرض کے لیے بینک کی داخلی جانچ، منصوبے کی تیاری، ماحولیاتی و سماجی تحفظات، مالی شرائط اور حکومتی منظوریوں سمیت کئی مراحل درکار ہوسکتے ہیں۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت 3 ستمبر 2026 کی ملاقات، 2.5 ارب ڈالر کا سرکاری لاگتی تخمینہ، رواں مالی سال سنگ بنیاد رکھنے کا حکومتی ہدف، نوابشاہ-روہڑی حصے کی ترجیح اور قرضی منظوری تیز کرنے کی درخواست ہے۔ منصوبے کی فنانسنگ کو مکمل یا تعمیر کو شروع شدہ قرار دینا دستیاب اعلامیے سے ثابت نہیں ہوتا۔




