اسلام آباد/منگولیا: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے ترقیاتی شراکت داروں کو پاکستان ریلوے کی مین لائن ون (ایم ایل ون) کی جدید کاری اور خصوصاً کراچی سے روہڑی تک مجوزہ اپ گریڈ کی پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انہوں نے منگولیا میں کیئرک انٹرنیشنل کانفرنس کے موقع پر ڈویلپمنٹ پارٹنرز ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے اس منصوبے کو پاکستان کی تجارت، مال برداری اور علاقائی رابطے کے لیے اہم قرار دیا۔
وزیر منصوبہ بندی کے مطابق ایم ایل ون کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,726 کلومیٹر پر پھیلی پاکستان ریلوے کی مرکزی راہداری ہے اور موجودہ نیٹ ورک میں مسافر اور مال بردار ٹریفک کا بڑا حصہ اسی لائن پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید کاری کے بعد لائن کی گنجائش میں نمایاں اضافہ، مسافر ٹرینوں کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک اور مال بردار ٹرینوں کی رفتار تقریباً 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بڑھانے کا ہدف ہے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ کراچی-روہڑی حصہ تقریباً 2.5 ارب ڈالر لاگت کے ساتھ ایم ایل ون جدید کاری کا سب سے آگے بڑھا ہوا جزو ہے۔ ان کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک فنانسنگ کی کوشش کی قیادت کر رہا ہے، جبکہ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، عالمی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک اور یورپی سرمایہ کاری بینک بھی ممکنہ مشترکہ فنانسنگ شراکت داروں کے طور پر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ تصوراتی مرحلے سے آگے بڑھ چکا ہے، تیاری سے متعلق فنانسنگ حاصل ہو چکی ہے، انجینئرنگ کام کیا گیا ہے اور خریداری و فنانسنگ کے عمل آگے بڑھ رہے ہیں۔
وزیر کے مطابق مجوزہ اپ گریڈ سے لائن کی گنجائش موجودہ سطح سے بڑھ کر 120 ٹرین جوڑوں تک پہنچانے کا ہدف ہے، جبکہ کراچی سے روہڑی سفر کا وقت تقریباً آٹھ گھنٹے سے کم ہو کر ساڑھے چار گھنٹے کے قریب آنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2035 تک مال برداری کی طلب تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ ٹن سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ اعداد و شمار حکومتی منصوبہ بندی کے اہداف اور تخمینے ہیں، حتمی نتائج تعمیر، فنانسنگ اور آپریشنل عمل درآمد پر منحصر ہوں گے۔
احسن اقبال نے واضح کیا کہ کراچی-روہڑی حصے کو الگ منصوبے کے طور پر نہیں بلکہ کراچی سے پشاور تک مکمل ایم ایل ون جدید کاری کے پہلے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت روہڑی سے پشاور تک باقی حصوں کے لیے بھی فنانسنگ کا راستہ تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
دستیاب رپورٹ میں کراچی-روہڑی اپ گریڈ کے لیے کسی نئے حتمی قرض معاہدے پر دستخط یا مکمل فنڈنگ بند ہونے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس مرحلے پر حکام نے منصوبے کی تیاری، شراکت دار اداروں کی دلچسپی اور فنانسنگ و خریداری کے عمل میں پیش رفت بیان کی ہے۔ اگلا اہم مرحلہ مالی انتظامات کی تکمیل اور تعمیراتی عمل کے عملی آغاز سے متعلق ہوگا۔

