اسلام آباد/لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی تشکیل سے متعلق جاری بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور عوامی خدمات کی ضروریات موجودہ انتظامی ڈھانچے پر جامع نظرثانی کا تقاضا کرتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جانب سے نظام کے ’ری سیٹ‘ کی بات کسی حکومت یا سیاسی جماعت کی تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ حکمرانی اور انتظامی بندوبست کی ازسرنو ترتیب کے تناظر میں ہے۔

لاہور میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور گڈ گورننس سے متعلق پالیسی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ تعلیم، صحت، صاف پانی اور صفائی جیسی بنیادی سہولتوں کی مؤثر فراہمی کے لیے انتظامی حدود اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کا کوئی بھی فیصلہ کسی ایک فرد یا جماعت کی خواہش پر مسلط نہیں ہونا چاہیے بلکہ آئین، قانون، عوامی رائے اور وسیع سیاسی اتفاق رائے کے تحت ہونا چاہیے۔ انہوں نے اسلام آباد کو صوبائی حیثیت دینے کے امکان پر بھی بحث کی تجویز دی اور اسے مالی وسائل کی تقسیم سے جوڑا۔

اس معاملے پر وفاقی حکومت اور اتحادی جماعتوں کے اندر مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے موجودہ نظام میں طاقت کے ارتکاز پر تنقید کی۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ قیادت نے صوبے کی تقسیم یا اس کی جغرافیائی وحدت متاثر کرنے والی کسی کوشش کی مخالفت کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ انتظامی اصلاحات اور صوبوں کی ازسرنو تشکیل دو مختلف معاملات ہیں اور صوبائی حدود سے متعلق فیصلے آئینی تقاضوں اور متعلقہ صوبے کے عوام کی مرضی کے مطابق ہونے چاہییں۔

تحریک انصاف نے بھی اس بحث کے سیاسی اور آئینی اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کے واضح مؤقف کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ استحکام پاکستان پارٹی نے نئے صوبوں پر قومی سطح کی بحث کا خیرمقدم کیا۔ یوں یہ معاملہ محض انتظامی کارکردگی تک محدود نہیں رہا بلکہ وفاقی ڈھانچے، صوبائی خودمختاری، مالی وسائل اور اٹھارہویں ترمیم کے تناظر میں ایک وسیع سیاسی بحث اختیار کر گیا ہے۔ فی الحال حکومت کی جانب سے کسی نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کی باقاعدہ آئینی تجویز یا حتمی نقشہ سامنے نہیں آیا، اس لیے موجودہ پیش رفت کو سیاسی و پالیسی مباحثے کے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔