متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ دوبارہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہری علاقوں کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے اختیارات اور وسائل کی مؤثر نچلی سطح تک منتقلی ضروری ہے۔ پارٹی چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے یہ مؤقف کراچی کے بہادرآباد مرکز میں قانونی ماہرین کے ایک اجلاس کے دوران پیش کیا۔

اجلاس میں متحدہ لائرز فورم، پارٹی کی لیگل ایڈ کمیٹی اور دیگر قانونی ماہرین نے شرکت کی۔ گفتگو میں شہری سندھ کے بلدیاتی اور انتظامی مسائل، آئینی و قانونی اصلاحات، عدالتی کارکردگی اور زیر حراست پارٹی کارکنوں سے متعلق قانونی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ نئے اور بااختیار انتظامی یونٹس قائم کرنا شہریوں کو بنیادی خدمات اور حقوق ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے اہم ہے۔

قانونی ماہرین نے موجودہ قوانین اور ضابطوں میں مبینہ خامیوں پر بریفنگ دی اور بعض قانونی و آئینی تبدیلیوں کی تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں بروقت، کم خرچ اور شفاف انصاف کے لیے عدالتی اصلاحات کی ضرورت پر بھی بات ہوئی۔ پارٹی کی لیگل ایڈ کمیٹی نے شہریوں کے لیے قانونی معاونت بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا معاملہ سندھ میں خاصا حساس سیاسی موضوع ہے۔ سندھ اسمبلی اس سے قبل صوبے کی تقسیم یا حدود میں تبدیلی کی تجاویز مسترد کر چکی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کا تازہ بیان اسی جاری سیاسی اور آئینی بحث کا حصہ ہے، نہ کہ کسی نئے انتظامی یونٹ کے قیام کا سرکاری فیصلہ۔

آئین کے تحت کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے باقاعدہ آئینی عمل اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی رضامندی درکار ہوتی ہے۔ اس لیے پارٹی کی تجویز فی الحال ایک سیاسی مطالبہ ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا ہے کہ وہ اپنے مؤقف کو سیاسی، آئینی اور قانونی ذرائع سے آگے بڑھائے گی۔ آنے والے عرصے میں اس مطالبے پر وفاقی اور صوبائی جماعتوں کے ردعمل سے یہ واضح ہوگا کہ انتظامی ڈھانچے سے متعلق بحث کسی باضابطہ مشاورتی عمل کی طرف بڑھتی ہے یا نہیں۔