صومالیہ کے ساحل کے قریب اپریل میں اغوا ہونے والے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کے باقی تین پاکستانی عملہ ارکان وطن واپسی کے لیے ادیس ابابا سے کراچی روانہ ہوگئے ہیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ عمران علی، حسین یوسف اور محمد یاسین بدھ کو کراچی پہنچنے کی توقع ہے، جہاں وہ اپنے اہل خانہ سے ملیں گے۔
پلاؤ کے پرچم والے ایم ٹی آنر 25 کو اپریل میں صومالیہ کے قریب اغوا کیا گیا تھا۔ جہاز پر مجموعی طور پر 19 افراد سوار تھے، جن میں 10 پاکستانی بھی شامل تھے۔ ستمبر کے آخر میں صومالیہ کے نیم خودمختار خطے پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس نے جہاز بازیاب کیا تھا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے پانچ عملہ ارکان میں تین پاکستانی شامل تھے۔ چار زخمی پاکستانی ملاح اس سے قبل وطن واپس پہنچ چکے ہیں اور ہلاک ہونے والے تین پاکستانیوں کی میتیں بھی ایتھوپیا کے راستے پاکستان لائی گئی تھیں۔ اب باقی تین پاکستانی عملہ ارکان کی واپسی کے بعد پاکستانی ملاحوں کی وطن منتقلی کا مرحلہ مکمل ہونے کے قریب ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ادیس ابابا میں پاکستانی سفیر نے تینوں ملاحوں سے ملاقات کی اور قیام کے دوران ضروری سہولیات فراہم کرنے کو یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ اور حکومت نے عملے کی محفوظ واپسی کے لیے کوششیں کیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ہلاک ہونے والے پاکستانی ملاحوں کے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔
وزیر خارجہ نے بحری قزاقی کے خلاف بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے اور ملاحوں و بحری راستوں کی حفاظت کے عزم کا اعادہ کیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق جہاز کے عملے میں پاکستانیوں کے علاوہ سات انڈونیشیائی، ایک بھارتی اور ایک سری لنکن شہری بھی شامل تھا۔
اغوا کے بعد کئی ماہ تک عملے کی رہائی میں پیش رفت محدود رہی تھی اور اہل خانہ نے بین الاقوامی اداروں اور حکومتوں سے مدد کی اپیلیں کی تھیں۔ واقعے سے متعلق تاوان اور جہاز کی ملکیت کے بارے میں مختلف دعوے سامنے آئے، تاہم ان دعوؤں کی تمام تفصیلات آزادانہ طور پر حتمی ثابت نہیں ہوئیں۔ تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ باقی تین پاکستانی ملاح بازیابی کے بعد ادیس ابابا پہنچے اور اب وطن واپسی کے سفر پر ہیں۔

