مری میں اسکول بچوں کو لے جانے والی ایک وین سڑک سے اترنے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگئی، جس کے نتیجے میں 10 بچوں سمیت 12 افراد زخمی ہوگئے۔ واقعہ 29 ستمبر کو بڑا ہوتر لنک روڈ کے قریب پیش آیا، جہاں پولیس اور ریسکیو ٹیمیں اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچیں اور مسافروں کو نکال کر تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا۔

ڈان نے مری پولیس اور اسپتال کی واقعہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ متاثرہ گاڑی سوزوکی بولان تھی اور اس میں اسکول جانے والے بچے سوار تھے۔ اسپتال کی رپورٹ کے مطابق دو بالغ افراد اور پانچ سے 14 سال عمر کے 10 بچے طبی امداد کے لیے لائے گئے۔ ان 12 افراد میں سے 10 کو مختلف درجے کے جلنے کے زخم آئے۔

رپورٹ کے مطابق تین بچوں کے زخم نسبتاً شدید تھے۔ ایک بچے کا جسم تقریباً 42 فیصد، دوسرے کا 38 فیصد اور تیسرے کا 26 فیصد جھلسا۔ حکام نے شدید زخمی بچوں کے علاج اور ضرورت کے مطابق ریفرل انتظامات کیے۔ مری کے ضلعی پولیس افسر رضا تنویر سپرا نے اسپتال کا دورہ کیا اور زخمی بچوں کی عیادت کی۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خاندانوں اور طبی حکام سے رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔

حادثے کی فوری وجہ تاحال حتمی طور پر متعین نہیں کی گئی۔ مری پولیس نے کہا کہ واقعے کے اسباب جاننے کے لیے قانونی اور تفتیشی کارروائی کی جائے گی۔ ابتدائی اطلاعات میں گاڑی کے سڑک سے اترنے کے بعد آگ لگنے کا ذکر ہے، تاہم آگ کس وجہ سے بھڑکی، اس بارے میں کسی سرکاری تحقیق کا حتمی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کی اور گاڑی میں گنجائش سے زیادہ مسافروں کی ممکنہ موجودگی اور ناکافی فائر سیفٹی انتظامات سے متعلق معاملات پر بھی توجہ دینے کی ہدایت کی۔ یہ نکات فی الحال انتظامی جانچ کا حصہ ہیں اور انہیں حادثے کی ثابت شدہ وجہ قرار نہیں دیا گیا۔

اس واقعے نے اسکول ٹرانسپورٹ میں گاڑیوں کی فنی حالت، مسافروں کی تعداد، آگ بجھانے کے سامان اور ہنگامی اخراج کے انتظامات کی اہمیت دوبارہ نمایاں کی ہے۔ زخمی بچوں کی طبی حالت پر نگرانی جاری ہے، جبکہ پولیس کی تفتیش سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ گاڑی سڑک سے کیوں اتری اور آگ لگنے میں کون سے عوامل شامل تھے۔