راولپنڈی: مری میں اسکول وین کے سڑک سے اترنے اور آگ لگنے کے حادثے میں شدید زخمی ہونے والی 14 سالہ طالبہ عائشہ کلیم ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی میں انتقال کر گئیں۔ ڈان کے مطابق نویں جماعت کی طالبہ نے وین میں پھنسے دیگر بچوں کو باہر نکالنے کی کوشش کے دوران شدید جھلسنے کے زخم برداشت کیے تھے اور ان کے جسم کا تقریباً 45 فیصد حصہ متاثر ہوا تھا۔

حادثہ منگل کو مری میں پیش آیا تھا جب بچوں کو لے جانے والی اسکول وین سڑک سے نیچے اتر گئی اور بعد ازاں اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ پولیس کے مطابق وین میں 12 بچے سوار تھے۔ متعدد بچوں کو فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال مری منتقل کیا گیا، جبکہ زیادہ جھلسنے والے چار بچوں کو ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی ریفر کیا گیا تھا۔

عائشہ انہی چار شدید زخمی بچوں میں شامل تھیں۔ ڈان کے مطابق وہ دوسرے بچوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے خود شدید آگ کی زد میں آئیں۔ ان کے انتقال کے بعد انہیں مری کے مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ دیگر زیرِ علاج بچوں میں آٹھ سالہ ارحم علی، گیارہ سالہ عبداللہ کلیم اور آٹھ سالہ حسن طالب شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ارحم کے جسم کا تقریباً 60 فیصد حصہ جھلسا جبکہ حسن کو بھی نمایاں جلنے کے زخم آئے۔

حادثے کی اصل وجہ ابھی حتمی طور پر طے نہیں ہوئی۔ ضلعی انتظامیہ نے اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی ایس پی مری کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی ہے، جسے واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے مطابق بچوں نے دھماکے جیسی آواز سننے کے بعد آگ لگنے کا ذکر کیا، تاہم پولیس نے واضح کیا کہ اصل وجہ تحقیقاتی رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ واقعے کا مقدمہ بھی درج کیا جا چکا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون نے حادثے کے ابتدائی مرحلے میں بتایا تھا کہ وین کھائی کی طرف گئی اور آگ لگنے سے متعدد بچے زخمی ہوئے۔ بعد کی طبی اطلاعات نے زخمیوں کی شدت کی تفصیل فراہم کی۔ اس لیے ابتدائی بیانات میں ممکنہ بریک فیل ہونے یا دیگر تکنیکی وجوہات کا ذکر سامنے آنے کے باوجود حتمی سبب کو ابھی ثابت شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

واقعے کے بعد مری ٹریفک پولیس نے اسکول وینز اور دیگر پبلک سروس گاڑیوں کی حفاظتی جانچ سخت کر دی ہے۔ خصوصی ٹیموں کو آگ بجھانے والے آلات، گاڑیوں کی فٹنس، ڈرائیور کے لائسنس اور گنجائش سمیت بنیادی حفاظتی تقاضوں کی جانچ کی ہدایت دی گئی۔ حکام نے والدین اور اسکول انتظامیہ سے بھی کہا ہے کہ بچوں کی آمدورفت کے لیے صرف قانونی طور پر منظور شدہ اور فٹ گاڑیوں کا انتخاب کریں۔

عائشہ کلیم کی موت نے اس حادثے کو ایک جانی سانحے میں بدل دیا ہے، جبکہ تین دیگر شدید زخمی بچوں کا علاج جاری ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ آیا حادثہ گاڑی کی تکنیکی خرابی، حفاظتی غفلت یا کسی اور وجہ سے پیش آیا۔