قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو عمل تیز کرنے، قانونی تقاضے پورے کرنے اور فیصلوں میں شفافیت برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس کی صدارت رکن قومی اسمبلی محمد فاروق ستار نے کی، جبکہ وزارت نجکاری اور متعلقہ محکموں کے حکام نے سابق سفارشات پر عمل درآمد کی صورتحال سے آگاہ کیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ وفاقی کابینہ نے 13 اگست 2024 کو زیڈ ٹی بی ایل کو نجکاری پروگرام 2024–29 میں شامل کیا تھا۔ نجکاری کمیشن کے بورڈ نے اسے بڑے درجے کی نجکاری قرار دیتے ہوئے ضروری عمل شروع کیا۔ یہ مرحلہ ممکنہ لین دین کی تیاری ہے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ فروخت مکمل ہوگئی، کوئی خریدار منتخب ہوچکا یا قیمت طے پاگئی ہے۔ اثاثوں، واجبات، قرض پورٹ فولیو، قانونی معاملات اور ادارے کے زرعی مالیاتی کردار کی جانچ آئندہ فیصلوں کے لیے بنیادی ہوگی۔
زیڈ ٹی بی ایل کا معاملہ عام تجارتی بینک سے مختلف اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ادارہ زرعی شعبے اور دیہی قرض تک رسائی سے جڑا ہوا ہے۔ کمیٹی کے جائزے میں اس بات کی ضرورت سامنے آئی کہ ممکنہ نجکاری کے مالی فوائد کے ساتھ کسانوں کے لیے قرض کی دستیابی، دور دراز علاقوں میں خدمات اور حکومتی پالیسی اہداف پر اثر بھی جانچا جائے۔ کسی لین دین کی ساخت ایسی ہونی چاہیے جو صرف فوری وصولی کے بجائے ادارے کی طویل مدتی ذمہ داریوں کو واضح کرے۔
اجلاس میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں، یعنی ڈسکوز، کی نجکاری یا نجی شعبے کی شمولیت کے منصوبوں پر بھی غور ہوا۔ اس شعبے میں لائن لاسز، وصولیوں، نرخوں، سرکاری واجبات، ریگولیٹری فیصلوں اور مختلف علاقوں کی مالی کارکردگی ایک جیسی نہیں۔ اسی لیے ہر کمپنی کے لیے اثاثوں اور ذمہ داریوں کی الگ جانچ، سروس کے معیار کی شرائط اور صارفین کے تحفظ کا قابل نفاذ نظام ضروری ہوگا۔
کمیٹی نے شفافیت، مکمل جانچ اور قواعد کی پابندی پر زور دیتے ہوئے سفارش کی کہ اگر نجکاری آگے بڑھتی ہے تو ملازمین کی موجودہ حیثیت، قانونی حقوق اور جائز مفادات کو تحفظ دیا جائے۔ ملازمین کے بارے میں صرف عمومی یقین دہانی کافی نہیں ہوگی؛ مستقل، کنٹریکٹ اور پنشن سے متعلق ذمہ داریوں کو لین دین کی دستاویزات میں واضح کرنا ضروری ہے۔
اردو ہیڈ لائنز ڈیسک نے اجلاس کی کارروائی اور اداروں کی پیش کردہ صورتحال کو رپورٹ کیا ہے۔ کمیٹی کی سفارشات نگرانی اور پارلیمانی جانچ کا حصہ ہیں، حتمی فروخت یا خریدار کی منظوری نہیں۔ آئندہ کسی بھی پیش رفت کی تصدیق نجکاری کمیشن، وفاقی کابینہ، متعلقہ ریگولیٹرز اور سرکاری لین دین دستاویزات سے ہونی چاہیے۔




