اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کے معیار پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندوں کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے کمپنیوں پر عائد جرمانوں اور وصول شدہ رقوم کی تفصیلات بھی مانگی ہیں۔
کمیٹی کے چیئرمین امین الحق نے اجلاس میں کہا کہ صارفین کو بعض اوقات ایک کال ملانے کے لیے کئی مرتبہ نمبر ڈائل کرنا پڑتا ہے اور اسپیکٹرم نیلامی کے بعد سروس کے معیار میں بہتری کے بجائے مزید شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ دیگر ارکان نے بھی نیٹ ورک مسائل کی بنیادی وجوہات حل نہ ہونے پر سوال اٹھائے۔ پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اتھارٹی شہروں میں سروے اور نگرانی کرتی ہے اور کمپنیوں کو خامیاں دور کرنے کے لیے وقت دیا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق زیادہ سے زیادہ جرمانہ 350 ملین روپے تک ہو سکتا ہے، تاہم بعض کارروائیاں عدالتی حکم امتناع کے باعث رک جاتی ہیں۔
پی ٹی اے نے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ فائیو جی کے آغاز کے بعد معیار میں بہتری آ رہی ہے اور کراچی میں فائیو جی سائٹس کی تعداد 279 تک پہنچ چکی ہے۔ آئی ٹی سیکریٹری ضرار ہاشم خان نے بتایا کہ مارچ میں ہونے والی فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی میں حکومت نے محض آمدن کے بجائے سروس کے معیار کو ترجیح دی تھی۔ کمیٹی نے ان وضاحتوں کے باوجود ٹیلی کام کمپنیوں سے براہ راست جواب لینے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی پاکستان میں ممکنہ مینوفیکچرنگ موجودگی پر بھی گفتگو ہوئی۔ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو حمد منصور نے کمیٹی کو بتایا کہ ایپل کو پاکستان لانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور وزیر اعظم شہباز شریف کے آئندہ امریکی دورے کے دوران ایپل کے چیف ایگزیکٹو جان ٹرنس سے ملاقات کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق ملک میں 37 کمپنیاں موبائل فون تیار کر رہی ہیں اور اب تک 35 ملین سے زیادہ ڈیوائسز مقامی طور پر تیار ہو چکی ہیں۔
کمیٹی نے درآمدی موبائل فونز پر ٹیکس کی قسطوں میں ادائیگی اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے صنعتی بجلی ٹیرف کے معاملات بھی زیر بحث لائے۔ پی ٹی اے نے واضح کیا کہ موبائل ٹیکس کا تعین ایف بی آر کے دائرہ اختیار میں ہے۔ کمیٹی نے متعلقہ اداروں سے آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ طلب کی ہے۔ ایپل سے متعلق گفتگو مذاکرات اور حکومتی کوششوں کی سطح پر ہے؛ کمپنی کی جانب سے پاکستان میں مینوفیکچرنگ شروع کرنے کا کوئی حتمی اعلان اس اجلاس میں نہیں کیا گیا۔




