اسلام آباد: پاکستان کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور گیٹس فاؤنڈیشن نے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، ڈیٹا سسٹمز، صحت کی ٹیکنالوجی، مالی شمولیت اور استعداد کار کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ سے فاؤنڈیشن کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات میں سامنے آیا۔

سرکاری پریس ریلیز کے مطابق وفد کی قیادت گیٹس فاؤنڈیشن کی گلوبل پالیسی اینڈ ایڈووکیسی ڈویژن کی عبوری صدر ڈاکٹر کلپنا کوچھر اور جینڈر ایکویلیٹی ڈویژن کی صدر ڈاکٹر انیتا زیدی نے کی۔ وزیر آئی ٹی نے حکومت کے 'ڈیجیٹل نیشن پاکستان' ایجنڈے کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے اسے عوامی خدمات کی جدید کاری، شمولیتی ڈیجیٹل ترقی اور مضبوط ڈیجیٹل معیشت کی تشکیل سے جوڑا۔

ملاقات میں دونوں جانب سے ایسے شعبوں کی نشاندہی کی گئی جہاں تکنیکی مہارت، ڈیٹا اور پالیسی تعاون کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ان میں مصنوعی ذہانت کے استعمال، ڈیجیٹل مالیاتی خدمات، صحت کے نظام میں ٹیکنالوجی، ڈیٹا انفراسٹرکچر اور انسانی استعداد کی بہتری شامل ہے۔ سرکاری بیان میں کسی مخصوص مالی گرانٹ، منصوبے کی حتمی لاگت یا نفاذ کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے پیش رفت کو تعاون کے فریم ورک اور آئندہ کام کے اتفاق کے طور پر بیان کرنا درست ہے۔

شزا فاطمہ خواجہ نے بین الاقوامی شراکت داری کو حکومت کے ڈیجیٹل اہداف کے لیے اہم قرار دیا۔ پاکستان میں سرکاری خدمات کی ڈیجیٹل منتقلی، شناخت اور ادائیگی کے نظام، ڈیٹا کے باہمی استعمال اور اے آئی پر مبنی خدمات کے امکانات کے ساتھ ساتھ رازداری، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل رسائی اور ادارہ جاتی صلاحیت جیسے سوالات بھی اہم ہیں۔

گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد نے پاکستان میں حالیہ ڈیجیٹل تبدیلی کے اقدامات کو سراہا، جبکہ دونوں فریقوں نے مستقبل میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اب عملی مرحلہ اس بات سے واضح ہوگا کہ کن منصوبوں کو ترجیح دی جاتی ہے، ذمہ دار ادارے کیا طریقہ کار طے کرتے ہیں اور تعاون کے لیے مالی و تکنیکی وسائل کس شکل میں مختص ہوتے ہیں۔ موجودہ ملاقات نے کم از کم ان شعبوں کی باقاعدہ نشاندہی کر دی ہے جن میں حکومت اور فاؤنڈیشن مشترکہ کام بڑھانا چاہتے ہیں۔