اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار نے برقی گاڑیوں کے چارجرز پر عائد کی جانے والی مبینہ دوہری ڈیوٹی کا نوٹس لیتے ہوئے وزارتِ خزانہ، وزارتِ تجارت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے متعلقہ حکام کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا ہے۔ کمیٹی نے ابھی کوئی ڈیوٹی ختم یا شرح تبدیل نہیں کی؛ اس کا فوری فیصلہ موجودہ ٹیکس و کسٹمز ڈھانچے کا سرکاری جائزہ کرانے تک محدود ہے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق کمیٹی کا اجلاس 3 ستمبر کو رکنِ قومی اسمبلی سید حفیظ الدین کی صدارت میں ہوا۔ ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ مقامی ای وی چارجنگ انفراسٹرکچر پر اضافی مالی بوجھ ملک کے سبز توانائی اہداف، برقی گاڑیوں کی صنعت بڑھانے کے حکومتی وژن اور پائیدار ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری کے خلاف جا سکتا ہے۔ یہ کمیٹی کا پالیسی جائزہ ہے؛ رپورٹ میں متعلقہ ڈیوٹی کی مخصوص ٹیرف لائنیں، دونوں محصولات کے نام یا شرحیں درج نہیں کی گئیں۔

کمیٹی نے تینوں وفاقی اداروں کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ اگلی نشست میں پیش ہو کر چارجرز پر لاگو ڈیوٹی ساخت کی وضاحت کریں اور اسے قومی ای وی فروغ کی پالیسی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے ممکنہ طریقوں کا جائزہ لیں۔ اس مرحلے پر کسی نئی رعایت، چھوٹ، ریفنڈ یا درآمدی شرح کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کی اطلاع نہیں، اس لیے صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے موجودہ قانونی ذمہ داریاں سرکاری تبدیلی تک برقرار رہیں گی۔

ای وی چارجرز برقی گاڑیوں کے استعمال کے بنیادی ڈھانچے کا اہم حصہ ہیں۔ درآمدی آلات، مقامی اسمبلی، پرزوں اور مکمل چارجنگ یونٹس پر مختلف کسٹمز یا ٹیکس درجہ بندی لاگو ہو سکتی ہے۔ اگر ایک ہی سامان پر غیر ارادی طور پر دو سطحوں پر ڈیوٹی لگ رہی ہو تو اس کی درست قانونی حیثیت ایف بی آر کی ٹیرف تشریح، وزارتِ تجارت کی درآمدی پالیسی اور وزارتِ خزانہ کے محصولاتی فیصلے سے واضح ہوگی۔ کمیٹی نے اسی بین الادارہ جائزے کی ہدایت دی ہے۔

اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز کے ایک ڈائریکٹر کو اہم عہدوں پر تعینات کیے جانے کے معاملے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق متعلقہ شخص کے خلاف ایف آئی آر اور انکوائری زیرِ التوا ہونے کا ذکر کرتے ہوئے وزارت کو 15 دن میں جامع تحقیقات اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ یہ معاملہ ایک جاری انتظامی و تفتیشی عمل ہے اور کمیٹی کی تشویش یا ایف آئی آر کسی جرم کے عدالتی ثبوت کے مترادف نہیں۔

کمیٹی نے کراچی میں صنعتوں کو متاثر کرنے والی لوڈشیڈنگ پر بھی کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو کو اگلے اجلاس میں طلب کیا۔ مزید برآں، وزارتِ صنعت و پیداوار کے مشیر اور سیکریٹری کی مسلسل عدم شرکت پر تحفظات ظاہر کیے گئے اور آئندہ غیر حاضری کی صورت میں استحقاق کی تحریک کا انتباہ دیا گیا۔ یہ ہدایات پارلیمانی نگرانی کے عمل کا حصہ ہیں اور ان پر متعلقہ اداروں کے جوابات آئندہ اجلاس میں سامنے آنے ہیں۔

ای وی چارجرز کے بارے میں حقیقی پالیسی نتیجہ اس وقت واضح ہوگا جب طلب کیے گئے محکمے ڈیوٹی کی قانونی بنیاد، شرحوں، ممکنہ دوہرے اطلاق اور محصول پر کسی تبدیلی کے اثرات کی تفصیل پیش کریں گے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت صرف پارلیمانی نوٹس، اداروں کی طلبی اور جائزے کی ہدایت ہے، نہ کہ چارجرز کی قیمت یا ٹیکس میں فوری کمی۔