اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی صارفین کے لیے دو الگ مثبت ایڈجسٹمنٹس منظور کر لی ہیں۔ پہلے فیصلے کے تحت جولائی 2026 کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی شرح 2 روپے 5.81 پیسے، یعنی 2.0581 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے۔ دوسرے فیصلے میں اپریل سے جون 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ 51.94 پیسے، یعنی 0.5194 روپے فی یونٹ منظور ہوئی۔ دونوں شرحوں کو جمع کیا جائے تو عدد تقریباً 2.58 روپے فی یونٹ بنتا ہے، تاہم یہ دو مختلف مدات، الگ حساب اور مختلف اطلاقی مدت رکھنے والے فیصلے ہیں۔
نیپرا کے 4 ستمبر 2026 کے سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق جولائی میں بجلی کی حقیقی اوسط فیول لاگت 9.1511 روپے فی یونٹ رہی، جبکہ متعلقہ حوالہ جاتی فیول لاگت 7.0929 روپے فی یونٹ تھی۔ اس فرق کی بنیاد پر اتھارٹی نے 2.0581 روپے فی یونٹ مثبت ایف سی اے منظور کیا۔ یہ رقم ستمبر کے بلوں میں جولائی کے دوران استعمال کیے گئے یونٹس کی بنیاد پر الگ مد کے طور پر ظاہر کی جائے گی۔ جو ستمبر کے بل نوٹیفکیشن سے پہلے جاری ہو چکے ہوں، ان میں یہ ایڈجسٹمنٹ اگلے ماہ وصول کی جا سکتی ہے۔
ایف سی اے کا اطلاق سابق واپڈا تقسیم کار کمپنیوں اور کے الیکٹرک کے صارفین پر یکساں مدت کے لیے ہوگا۔ تاہم لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور وہ پری پیڈ صارفین جنہوں نے پری پیڈ ٹیرف اختیار کیا ہے، اس اضافے سے مستثنیٰ ہوں گے۔ نیپرا نے واضح کیا ہے کہ اضافہ انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کے تحت آنے والی کھپت پر بھی نافذ ہوگا اور تقسیم کار کمپنیوں کو عدالتی احکامات کی پابندی کرنا ہوگی۔
الگ سہ ماہی فیصلے میں نیپرا نے اپریل تا جون 2026 کے اخراجات اور وصولیوں کا جائزہ لے کر مجموعی خالص انڈر ریکوری تقریباً 12 ارب 66 کروڑ 90 لاکھ روپے شمار کی۔ اس رقم کی وصولی کے لیے 0.5194 روپے فی یونٹ کی یکساں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ منظور ہوئی، جو ستمبر، اکتوبر اور نومبر 2026 کے تین ماہ کے بلوں میں وصول کی جائے گی۔ سابق واپڈا تقسیم کار کمپنیوں کے ساتھ یہی شرح اور مدت کے الیکٹرک کے صارفین کے لیے بھی مقرر کی گئی ہے۔
سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں لائف لائن صارفین، انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کے تحت بل کیے گئے یونٹس اور پری پیڈ صارفین کو استثنا دیا گیا ہے۔ سماعت کے دوران ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی تھی کہ وصولی تین کے بجائے چار ماہ میں کی جائے، لیکن نیپرا نے منظور شدہ رقم کو درخواست کردہ رقم سے نمایاں طور پر کم قرار دیتے ہوئے تین ماہ کی مدت برقرار رکھی۔
ان فیصلوں کا عملی مطلب یہ ہے کہ اہل صارفین کے ستمبر کے بل میں جولائی کا ایف سی اے الگ سے شامل ہو سکتا ہے، جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ تین مسلسل ماہ تک وصول کی جائے گی۔ اس لیے میڈیا میں بیان کردہ تقریباً 2 روپے 58 پیسے فی یونٹ مجموعی عدد کو مستقل بنیادی ٹیرف میں یک مشت اضافہ نہیں سمجھنا چاہیے؛ یہ ماہانہ فیول لاگت اور سہ ماہی حساب کی دو الگ ریگولیٹری ایڈجسٹمنٹس ہیں۔ حتمی قابل اطلاق رقم ہر صارف کی متعلقہ کھپت، بلنگ مدت اور استثنائی زمرے کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔




