قومی احتساب بیورو کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد نے اسلام آباد میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کرکے نیب کی جاری انسداد بدعنوانی سرگرمیوں، تحقیقات اور رقوم کی وصولیوں سے متعلق بریفنگ دی ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق چیئرمین نے تحقیقات کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم اور قومی خزانے میں ان کی واپسی کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
وزیر خزانہ نے نیب کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے قومی اہداف کے حصول کے لیے وزارت خزانہ کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات میں کسی نئے مخصوص کیس، ملزم یا تازہ وصولی کی رقم کی تفصیل جاری نہیں کی گئی، اس لیے اسے مجموعی ادارہ جاتی بریفنگ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
نیب نے اپنی 2025 کی سالانہ رپورٹ میں 6.213 ٹریلین روپے کی براہ راست اور بالواسطہ وصولیوں کا دعویٰ کیا تھا، جس میں سرکاری و جنگلاتی زمین کی بازیابی بھی بڑی مالیت کے طور پر شامل تھی۔ ایسے اعداد و شمار میں نقد رقم کے ساتھ زمین اور اثاثوں کی تخمینی مالیت شامل ہو سکتی ہے، اس لیے انہیں صرف نقد رقم کے مساوی سمجھنا درست نہیں۔
احتساب کے ادارے کی کارکردگی کا جائزہ صرف وصولیوں سے نہیں بلکہ تحقیقات کے معیار، عدالتی نتائج، شکایات کے شفاف تصفیے اور ملزمان کے قانونی حقوق سے بھی کیا جاتا ہے۔ نیب کے اختیارات اور طریقہ کار پاکستان میں طویل عرصے سے سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع رہے ہیں۔
تازہ ملاقات میں وزارت خزانہ اور نیب کے درمیان ادارہ جاتی تعاون پر زور دیا گیا ہے۔ قومی خزانے میں رقوم کی واپسی مالی لحاظ سے اہم ہے، لیکن ہر کیس میں قانونی ذمہ داری اور جرم کا حتمی تعین متعلقہ عدالتی عمل کے ذریعے ہوتا ہے۔ آئندہ نیب کی تفصیلی کارکردگی رپورٹس سے یہ واضح ہوگا کہ وصولیوں، تحقیقات اور پراسیکیوشن کے مختلف اشاریوں میں کس نوعیت کی پیش رفت ہوئی۔




