اسلام آباد: قومی احتساب بیورو کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد بٹ نے کہا ہے کہ نیب نے بدعنوانی کے مقدمات میں کارروائی کے لیے مقرر مالی حد 50 کروڑ روپے سے کم کرکے 5 کروڑ روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حد کی وجہ سے ایسے کئی معاملات نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے جن میں عوامی وسائل یا سرکاری مفاد سے متعلق سنگین بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آ سکتے ہیں۔

چیئرمین نیب نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ اپنی کارروائیوں کو احتساب کے قانونی دائرے میں رکھتے ہوئے بڑے مالی معاملات پر توجہ دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی حد میں کمی کے لیے متعلقہ حکام کو تجویز پیش کی گئی ہے، تاہم کسی قانونی تبدیلی کا حتمی فیصلہ قانون سازی یا مجاز حکومتی عمل کے بعد ہی ہوگا۔ اس لیے اسے فی الحال نافذ شدہ نئی حد نہیں بلکہ نیب کی تجویز سمجھا جائے گا۔

نذیر احمد بٹ نے نیب کی حالیہ ریکوریوں اور سرکاری املاک سے متعلق اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ادارے نے پاکستان ریلوے سے متعلق زمین اور دیگر اثاثوں کی واپسی یا تحفظ میں کردار ادا کیا ہے اور مجموعی ریکوری کا حجم کھربوں روپے تک پہنچا ہے۔ ایسے اعداد و شمار نیب کی جانب سے پیش کیے گئے ہیں اور ان کی نوعیت میں نقد ریکوری کے ساتھ زمین یا اثاثوں کی مالیت بھی شامل ہو سکتی ہے۔

نیب کے دائرہ اختیار میں مالی حد کا سوال گزشتہ قانونی ترامیم کے بعد اہم رہا ہے۔ 50 کروڑ روپے کی موجودہ حد نے نسبتاً کم مالیت کے متعدد معاملات کو دوسرے تحقیقاتی یا احتسابی فورمز کے دائرے میں منتقل کیا۔ مجوزہ 5 کروڑ روپے کی حد منظور ہونے کی صورت میں نیب کے سامنے آنے والے مقدمات کی تعداد اور نوعیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

چیئرمین نیب نے یہ بھی کہا کہ ادارہ شکایات اور تحقیقات کے عمل میں شفافیت بہتر بنانے اور کاروباری برادری کے جائز خدشات دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کسی بھی مخصوص فرد یا ادارے کے خلاف الزام اس وقت تک ثابت شدہ جرم نہیں سمجھا جاتا جب تک متعلقہ عدالت یا قانونی فورم حتمی فیصلہ نہ دے۔

مجوزہ تبدیلی پر آئندہ پیش رفت اس بات سے واضح ہوگی کہ وفاقی حکومت اور پارلیمان نیب قانون میں مالی حد سے متعلق ترمیم کو کس شکل میں آگے بڑھاتے ہیں۔ فی الحال 5 کروڑ روپے کی حد ایک پالیسی تجویز ہے، نافذ شدہ قانونی معیار نہیں۔