خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پرووا کے علاقے سے ایک شوگر مل کے 17 ملازمین کو مسلح افراد نے اغوا کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملازمین رات کی شفٹ مکمل کرنے کے بعد بس میں واپس جا رہے تھے کہ تقریباً 15 سے 20 مسلح افراد نے راستہ روک کر گاڑی کو رکنے پر مجبور کیا۔ حملہ آوروں نے مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کیے اور پھر 17 افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔
ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹس کے مطابق واقعہ رات تقریباً ایک بجے پیش آیا۔ اغوا کیے گئے افراد میں بیشتر سکیورٹی سے متعلق ذمہ داریاں انجام دینے والے ملازمین بتائے گئے ہیں۔ پولیس نے علاقے میں تلاش اور بازیابی کی کارروائی شروع کر دی ہے، جبکہ واقعے کے محرکات اور اغوا کاروں کی شناخت کے بارے میں حتمی سرکاری نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا کہ اسی واقعے سے منسلک بعض مسافروں کو بعد میں چھوڑ دیا گیا، جبکہ 17 ملازمین بدستور لاپتا بتائے گئے۔ مقامی رہائشیوں نے مغویوں کی بازیابی کے مطالبے کے لیے انڈس ہائی وے پر احتجاج بھی کیا۔ حکام کی جانب سے کسی گروہ کی ذمہ داری کی تصدیق نہ ہونے کے باعث اس مرحلے پر اغوا کو کسی مخصوص تنظیم سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔
ڈیرہ اسماعیل خان اور اس سے ملحقہ جنوبی اضلاع گزشتہ برسوں میں شدت پسندی، اغوا اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات سے متاثر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں صنعتی اور تجارتی اداروں کے ملازمین کی نقل و حرکت بھی سکیورٹی کا اہم مسئلہ بن جاتی ہے، خصوصاً رات کے اوقات اور دور دراز سڑکوں پر۔ تازہ واقعہ مقامی کاروباری سرگرمی اور کارکنوں کے تحفظ سے متعلق خدشات کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
پولیس کے لیے فوری ترجیح مغویوں کا سراغ لگانا اور انہیں بحفاظت بازیاب کرانا ہے۔ تحقیقات میں بس کے مسافروں کے بیانات، راستے کی معلومات، ممکنہ مواصلاتی شواہد اور علاقے میں سکیورٹی نیٹ ورک سے حاصل ہونے والی معلومات اہم ہو سکتی ہیں۔ جب تک حکام مزید تفصیلات جاری نہیں کرتے، مغویوں کی حالت اور اغوا کاروں کے مطالبات کے بارے میں غیر مصدقہ اطلاعات سے گریز ضروری ہے۔
