لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی تین بہنوں علیمہ خان، نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کی حراست سے متعلق درخواست کی سماعت کرتے ہوئے پنجاب کے ہوم سیکریٹری اور کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو 28 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ عدالت میں دائر درخواست میں تینوں خواتین کی حراست کو چیلنج کرتے ہوئے ان کی بازیابی کی استدعا کی گئی ہے۔

جسٹس ابھر گل خان نے علیمہ خان کے بیٹے شہریز خان کی جانب سے دائر تازہ درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تینوں بہنوں کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر، یعنی ایم پی او، کے تحت حراست میں لیا گیا تھا اور ان کے مطابق حراستی احکامات 19 اور 20 اکتوبر کو اپنی مدت پوری کر چکے ہیں۔ وکیل کا مؤقف تھا کہ مدت ختم ہونے کے باوجود تینوں خواتین کو کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو 21 ستمبر کو 30 روز کے لیے حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ علیمہ خان کو ایک روز پہلے 20 ستمبر کو حراست میں لیا گیا۔ یہ اقدامات پی ٹی آئی کے حکومت مخالف احتجاج کے تناظر میں کیے گئے تھے۔ درخواست میں حراست جاری رکھنے کی قانونی بنیاد پر سوال اٹھایا گیا ہے، تاہم اس معاملے پر حتمی عدالتی فیصلہ ابھی نہیں آیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو مقدمے میں فریق کیوں نہیں بنایا گیا۔ وکیل نے جواب دیا کہ ڈپٹی کمشنر کا جاری کردہ حراستی نوٹیفکیشن ختم ہو چکا تھا، اس لیے انہیں فریق نہیں بنایا گیا۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان کے شوہر احد خان نے ڈپٹی کمشنر کو بھی طلب کرنے کی درخواست کی، جس پر عدالت نے واضح کیا کہ کسی افسر کو اس وقت طلب نہیں کیا جا سکتا جب وہ مقدمے میں فریق ہی نہ ہو۔

عدالت نے فی الحال حراست کی قانونی حیثیت پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں سنایا۔ ہوم سیکریٹری اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی طلبی کا مقصد متعلقہ حکام سے صورتحال اور موجودہ قانونی بنیاد کے بارے میں وضاحت حاصل کرنا ہے۔ آئندہ سماعت 28 اکتوبر کو مقرر ہے، جہاں سرکاری حکام کی پیشی کے بعد درخواست کے قانونی نکات پر مزید کارروائی متوقع ہے۔

یہ معاملہ بنیادی طور پر انتظامی حراست، حراستی حکم کی مدت اور مدت ختم ہونے کے بعد کسی شخص کو جیل میں رکھنے کے قانونی جواز سے متعلق ہے۔ درخواست گزار کے تمام دعوے اس مرحلے پر عدالتی جانچ کے تابع ہیں اور عدالت کی جانب سے حتمی نتیجہ سامنے آنے تک انہیں ثابت شدہ عدالتی findings نہیں سمجھا جا سکتا۔