دوحہ: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے قطر میں آٹھویں گلوبل سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران خطے کو انتہائی مشکل حالات کا سامنا رہا، لیکن پاکستان نے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی کوششیں ترک نہیں کیں۔
فورم کا موضوع مستقبل کے اتحاد تھا اور اس میں مختلف ممالک کے اعلیٰ حکام اور پالیسی ساز شریک ہوئے۔ محسن نقوی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع نے صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ وسیع تر عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا کیے۔ ان کے مطابق پاکستان نے ایسے وقت میں تصادم کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا اور فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔
وزیر داخلہ نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے فریقین کو قریب لانے اور علاقائی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ یہ محسن نقوی کا بیان ہے؛ ایران، امریکا یا دیگر فریقوں کی جانب سے ہر بیان کردہ سفارتی تفصیل کی الگ تصدیق اس رپورٹ میں دستیاب نہیں۔
محسن نقوی نے قطر کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ اسلام آباد اور دوحہ نے کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے رابطہ اور سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔ انہوں نے اس مؤقف پر زور دیا کہ جنگ جیتنے سے زیادہ اہم امن قائم کرنا ہے اور دیرپا حل کے لیے صبر، اعتماد اور مسلسل رابطے کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران خود کو رابطہ کاری اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں فعال فریق کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ دوحہ میں وزیر داخلہ کی گفتگو اسی سفارتی پالیسی کا تسلسل تھی، جس میں پاکستان نے علاقائی تنازعات کے سیاسی اور مذاکراتی حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔
فورم میں کیے گئے یہ بیانات کسی نئے باضابطہ معاہدے یا جنگ بندی کے اعلان کے مترادف نہیں ہیں۔ ان کا بنیادی محور پاکستان کی سابقہ اور جاری سفارتی کوششوں کی وضاحت، علاقائی کشیدگی کے خطرات کی نشاندہی اور مذاکرات کو ترجیح دینے کی اپیل تھا۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار متعلقہ فریقوں کے فیصلوں اور جاری سفارتی رابطوں پر ہوگا۔
