دوحہ: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پائیدار امن کے لیے صبر، باہمی اعتماد اور مسلسل سفارتی رابطے کی ضرورت ہے، کیونکہ کسی پیچیدہ علاقائی تنازعے کا حل ایک ہی ملاقات میں ممکن نہیں ہوتا۔ انہوں نے یہ بات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں گلوبل سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

محسن نقوی کے مطابق پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور بعض مواقع پر کشیدگی بہت بڑھنے کے باوجود اسلام آباد نے سفارتی عمل سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔ انہوں نے قطر کی ثالثی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان اور قطر نے خطے میں مزید کشیدگی روکنے کے لیے مل کر کام کیا۔

وزیر داخلہ کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی شرائط پر اختلاف برقرار ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ موقف کے مطابق تہران آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی تجویز پر قائم ہے، تاہم پیش رفت کو امریکی ردعمل اور ایران کی پیش کردہ شرائط سے جوڑا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی ترجیحات میں ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ نمایاں ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ امن کے لیے اعتماد سازی ایک مسلسل عمل ہے اور فریقین کو رابطے کے دروازے کھلے رکھنے چاہییں۔ انہوں نے خطے میں سفارتی کوششوں کے دوران پاکستان اور قطر کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی کے لمحات میں رابطہ برقرار رکھنا مزید تصادم روکنے کے لیے ضروری تھا۔

انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی حوالہ دیا اور اسے جنگ کے بجائے امن اور علاقائی سلامتی کو تقویت دینے کا انتظام قرار دیا۔ ان کے مطابق معاہدے کو جارحانہ اتحاد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور مشترکہ تحفظ کا فریم ورک قائم کرنا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں یمن کی جنگ، حوثی حملوں اور امریکا ایران کشیدگی کے باعث سکیورٹی ماحول مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان نے سرکاری سطح پر بارہا مذاکرات اور سفارتی حل کی حمایت کی ہے۔ محسن نقوی کے تازہ بیان میں بھی کسی نئی جنگی وابستگی کے بجائے مذاکرات، اعتماد سازی اور ثالثی کو مرکزی راستہ قرار دیا گیا۔

فورم میں دیے گئے ان ریمارکس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اسلام آباد علاقائی بحران میں اپنے سفارتی رابطوں کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم امریکا اور ایران کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کی بحالی کے لیے دونوں فریقوں کو بنیادی شرائط پر اتفاق کرنا ہوگا، جس کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔