راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے جس مدد کی ضرورت ہے پاکستان وہ فراہم کر رہا ہے اور یہ تعاون جاری رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بالخصوص حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کے لیے بنیادی اور ناقابل سمجھوتہ معاملہ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بات انڈیپنڈنٹ عربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جسے اتوار کو نشر کیا گیا۔ ان کے بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب کو یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں کا سامنا رہا ہے اور خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا حصہ ہیں، جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان الگ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ مکہ اتحاد کا مقصد جارحانہ کارروائی نہیں بلکہ اجتماعی دفاع اور مزاحمت کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی رکن ملک کے امن، سلامتی یا استحکام کو براہ راست یا بالواسطہ خطرہ لاحق ہو تو اجتماعی دفاع کا طریقہ کار حرکت میں آ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف تشکیل نہیں دیا گیا۔
فوجی ترجمان نے ایران سمیت متعلقہ فریقوں کے ساتھ پاکستان کے رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور فریقوں کو تحمل کی طرف لانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی تنازعات کو پھیلانے سے کسی مسئلے کا حل نہیں نکلتا اور پاکستان تمام فریقوں کو تناؤ کم کرنے کا پیغام دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور فوجی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی شامل ہیں اور اس کے جنرل سیکریٹریٹ کے ساتھ اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اتحاد ان دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا رہ سکتا ہے جو اجتماعی دفاع، امن اور علاقائی استحکام کے اصولوں سے اتفاق رکھتے ہوں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کسی مخصوص فوجی مدد کی مقدار یا عملی تفصیلات بیان نہیں کیں اور کہا کہ دفاعی اتحاد عموماً اپنی معاونت کی نوعیت اور حجم کی مکمل تفصیل عوامی طور پر ظاہر نہیں کرتے۔ اس لیے ان کے بیان کو پاکستان کی پالیسی اور دفاعی عزم کی وضاحت سمجھا جائے، نہ کہ کسی نئی مخصوص فوجی تعیناتی یا کارروائی کا اعلان۔

