دوشنبے: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کے لیے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے پہنچ گئے ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس 19 اور 20 اکتوبر 2026 کو منعقد ہو رہا ہے اور اس میں رکن ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور علاقائی تعاون سے متعلق معاملات زیر غور آئیں گے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق دوشنبے پہنچنے پر اسحاق ڈار کا استقبال تاجکستان کے وزیر توانائی و آبی وسائل اور پاکستان-تاجکستان مشترکہ کمیشن کے شریک چیئرمین دلیر جمعہ، تاجکستان میں پاکستان کے سفیر عرفان احمد، SCO کے لیے پاکستان کے قومی رابطہ کار خلیل ہاشمی اور دیگر حکام نے کیا۔

اجلاس کے ایجنڈے میں تجارت، مالیات، اقتصادی تعاون، علاقائی رابطہ کاری اور تنظیم کے بجٹ سے متعلق امور شامل ہیں۔ رکن ممالک اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیے، بیانات اور متعلقہ فیصلوں کی منظوری بھی متوقع طور پر دیں گے۔ ان دستاویزات کی حتمی نوعیت اجلاس کے اختتام اور رکن ممالک کی منظوری کے بعد ہی واضح ہوگی۔

دورے کے دوران اسحاق ڈار کی تاجک قیادت سے ملاقاتیں بھی طے ہیں۔ دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق وہ تاجکستان کے صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کے علاوہ SCO رکن ممالک کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ دوطرفہ رابطے کریں گے۔ 19 اکتوبر کو تاجک وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں دونوں جانب سے دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہانِ حکومت فورم بنیادی طور پر اقتصادی اور عملی تعاون کے معاملات پر توجہ دیتا ہے۔ پاکستان اس تنظیم کا مکمل رکن ہے اور خطے میں تجارت، ٹرانزٹ، توانائی، رابطہ کاری اور کثیرالجہتی تعاون کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتا رہا ہے۔ دوشنبے اجلاس میں پاکستانی وفد کی شرکت اسی فریم ورک کے تحت ہو رہی ہے۔

اجلاس کے دوران ہونے والی ممکنہ دوطرفہ ملاقاتوں یا مشترکہ فیصلوں کو ان کے باضابطہ اعلان سے پہلے حتمی معاہدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس مرحلے پر تصدیق شدہ پیش رفت اسحاق ڈار کی دوشنبے آمد، پاکستانی وفد کی قیادت اور اجلاس کے اعلان کردہ ایجنڈے تک محدود ہے۔