لاہور/کراچی: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی اصلاحات اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث کو دوبارہ نمایاں کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتی آبادی اور بدلتی ضروریات کے باعث موجودہ نظام کو ازسرِنو دیکھنا ہوگا۔ لاہور میں اختیارات کی منتقلی اور اچھی حکمرانی سے متعلق پالیسی مکالمے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ان کی جانب سے نظام کے ”ری سیٹ“ کی بات کسی حکومت یا سیاسی جماعت کی تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ عوامی خدمات، انتظامی حدود اور حکمرانی کے ڈھانچے کے جامع جائزے کے لیے ہے۔

محسن نقوی کے مطابق تعلیم، صحت، صاف پانی اور صفائی جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کئی دہائیوں سے موجود مسائل اس بات کے متقاضی ہیں کہ انتظامی نظام کو آبادی کے حجم اور شہری ضروریات کے مطابق بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے بارے میں کوئی فیصلہ ایک فرد یا ایک جماعت مسلط نہیں کر سکتی اور ایسا اقدام آئینی و قانونی طریقہ کار، سیاسی اتفاقِ رائے اور عوام کی خواہش کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو بھی صوبائی حیثیت دینے پر بحث کی تجویز دی، جس کی ایک وجہ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ میں دارالحکومت کے حصے کا نہ ہونا بیان کی۔

دفاعی وزیر خواجہ آصف نے بھی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم میں طے شدہ اختیارات کی منتقلی پر مؤثر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی پر نئے صوبوں کے معاملے میں متضاد رویے کا الزام بھی لگایا۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی سندھ نے وفاقی وزرا کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ صوبے کی وحدت اور آئینی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے بھی کہا کہ صوبوں کی تشکیل سے متعلق فیصلے متعلقہ صوبوں کے عوام اور آئینی طریقہ کار کے تحت ہونے چاہییں۔

تحریک انصاف نے وزیراعظم شہباز شریف کی اس بحث میں محدود موجودگی پر سوال اٹھایا اور اسے وفاق کے مستقبل کے انتظامی و سیاسی ڈھانچے سے متعلق اہم معاملہ قرار دیا۔ موجودہ مرحلے پر کسی نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کے قیام کا حتمی سرکاری فیصلہ سامنے نہیں آیا؛ بحث سیاسی تجاویز، بیانات اور آئینی طریقہ کار کے گرد جاری ہے۔