لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک میں نئی انتظامی اکائیاں صرف اسی صورت میں قائم کی جا سکتی ہیں جب عوام اس تجویز کی حمایت کریں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا ہو۔ لاہور میں نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ کسی ایک فرد، جماعت یا حکومت کی خواہش اس نوعیت کی تبدیلی کے لیے کافی نہیں، اور اصلاحات آئینی و جمہوری طریقے سے ہونی چاہئیں۔ یہ ایک پالیسی مؤقف ہے؛ وفاقی حکومت نے کسی نئی اکائی کی تعداد، حدود یا قیام کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں کیا۔
نقوی نے کہا کہ انتظامی نظام کو ’’ری سیٹ‘‘ کرنے سے مراد ریاستی ڈھانچہ توڑنا نہیں بلکہ ان خامیوں کو تبدیل کرنا ہے جو عوام تک خدمات پہنچانے میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ ان کے مطابق مجوزہ تبدیلیوں پر جذباتی تقاریر کے بجائے فوائد، نقصانات، طریقۂ کار اور مالی نتائج کا منظم جائزہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایک واضح مسودہ تیار کر کے لوگوں کے سامنے رکھا جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ وہ اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔
وزیر داخلہ کے مطابق پارلیمان، ماہرین، سیاسی جماعتوں اور متعلقہ علاقوں کے نمائندوں کو پہلے اس بحث میں شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ نئی اکائیوں کا معاملہ راتوں رات طے نہیں ہو سکتا اور اسے نسلی، لسانی، قبائلی یا علاقائی تقسیم کے بجائے بہتر حکمرانی اور شہریوں کو حکومت کے قریب لانے کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی سندھی یا پنجابی سمیت کسی بھی شہری سے اس کی ثقافتی یا علاقائی شناخت ترک کرنے کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
نقوی نے اپنی جولائی کی سابق تقریر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنقید کسی مخصوص سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ آزادی کے بعد سے قائم انتظامی نظام کی کارکردگی سے متعلق تھی۔ ان کے پہلے بیان کے بعد نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں پر ملک بھر میں سیاسی بحث شروع ہوئی تھی۔ پیپلز پارٹی نے معاملہ اپنے اعلیٰ فیصلہ ساز فورم کو بھیجا، سندھ کے وزیراعلیٰ نے مخالفت کی، جبکہ وکلا اور قوم پرست حلقوں نے آئینی اور سیاسی اعتراضات اٹھائے۔ تازہ خطاب ان اعتراضات کے جواب میں عوامی رضامندی اور اتفاقِ رائے کی شرط نمایاں کرتا ہے، مگر اختلاف ختم ہونے کی تصدیق نہیں کرتا۔
وزیر داخلہ نے خدمات کی فراہمی میں کمزوری کے ثبوت کے طور پر دعویٰ کیا کہ ہر دس میں سے چار بچے مطلوبہ تعلیم سے محروم ہیں، صرف 55 فیصد آبادی کو صاف پینے کے پانی تک رسائی حاصل ہے اور عدالتوں میں تقریباً 20 لاکھ مقدمات زیرِ التوا ہیں۔ یہ اعداد ان کی تقریر میں پیش کیے گئے؛ دستیاب خبر میں ان کے لیے علیحدہ تازہ شماریاتی دستاویز شامل نہیں تھی۔ اس لیے انہیں حکومتی عہدیدار کی دلیل کے طور پر سمجھا جائے گا، آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نئے سرکاری ڈیٹا کے طور پر نہیں۔
نقوی نے اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی کھلی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کو نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں حصہ ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق اسلام آباد کے شہریوں کو صوبائی نوعیت کے مالی اور انتظامی حقوق دینے کی ضرورت ہے۔ تاہم تقریر میں اسلام آباد صوبے کا آئینی مسودہ، مجوزہ اسمبلی و حکومت کا ڈھانچہ، مالی حصہ، حدود یا عمل درآمد کی تاریخ پیش نہیں کی گئی۔ یہ ان کا حمایتی مؤقف ہے، نافذ شدہ حکومتی فیصلہ نہیں۔
انہوں نے آبادی کی بنیاد پر این ایف سی وسائل کی تقسیم کو صوبوں کے لیے ایک ایسا محرک قرار دیا جس پر نظرثانی کی بحث ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے مقامی حکومتوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بااختیار شہری انتظامیہ عوامی مسائل کو بہتر سمجھ سکتی ہے۔ تقریر میں کسی نئے این ایف سی فارمولے یا بلدیاتی قانون کی منظوری نہیں دی گئی، اس لیے مالی تقسیم اور مقامی حکومتوں سے متعلق نکات آئندہ مکالمے کی تجاویز ہیں۔
تازہ خطاب کا قابل تصدیق نتیجہ یہ ہے کہ وزیر داخلہ نئی انتظامی اکائیوں کی بحث ترک کرنے کے حق میں نہیں، مگر انہوں نے اسے عوامی رضامندی، سیاسی اتفاق، پارلیمانی و ماہرین کی بحث اور آئینی طریقے سے مشروط کیا ہے۔ عملی پیش رفت اس وقت شمار ہوگی جب حکومت یا پارلیمان باقاعدہ مسودہ، مجوزہ حدود، مالی تخمینہ، مشاورتی طریقہ اور قانونی ترمیم سامنے لائے۔ فی الحال کسی نئی انتظامی اکائی کا قیام یا تعداد طے نہیں ہوئی۔




