ہیوسٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کے چار رکنی رضاکار عملے نے 378 دن تک زمین پر قائم مریخ جیسے مصنوعی مسکن میں رہنے کے بعد اپنا طویل دورانیے کا تجرباتی مشن مکمل کر لیا ہے۔ یہ مشن مستقبل میں مریخ پر انسانی سفر کے دوران جسمانی، نفسیاتی اور عملی مشکلات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔

عملے نے ایک بند اور محدود ماحول میں رہتے ہوئے ایسے کام انجام دیے جو مستقبل کے مریخی مشن میں خلابازوں کو درپیش ہو سکتے ہیں۔ ان میں مصنوعی مریخی مٹی میں فصلیں اگانا، محدود وسائل کا انتظام، آلات کی دیکھ بھال اور زمینی کنٹرول کے ساتھ جان بوجھ کر پیدا کی گئی مواصلاتی تاخیر کے تحت کام کرنا شامل تھا۔ اس تاخیر کا مقصد زمین اور مریخ کے درمیان حقیقی فاصلے سے پیدا ہونے والی رابطے کی مشکلات کی نقل کرنا تھا۔

ناسا کے اس نوعیت کے تجربات کا بنیادی مقصد کسی حقیقی مریخی لینڈنگ کا دعویٰ کرنا نہیں بلکہ زمین پر قابلِ کنٹرول ماحول میں انسانی کارکردگی اور مشن کے نظاموں کا مطالعہ کرنا ہے۔ بند مسکن میں طویل عرصہ گزارنے سے محققین کو خوراک، صحت، ٹیم ورک، تنہائی، کام کے دباؤ اور محدود سامان کے استعمال سے متعلق ڈیٹا ملتا ہے۔

چار رکنی ٹیم نے روزمرہ معمولات کے ساتھ ایسے منظرناموں پر بھی کام کیا جن میں خلائی سفر کی حقیقت پسندانہ پابندیاں شامل کی گئی تھیں۔ مصنوعی ماحول میں خوراک کی پیداوار خاص طور پر اہم ہے کیونکہ مستقبل کے طویل خلائی مشن میں تمام خوراک زمین سے لے جانا عملی اور مالی طور پر مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح رابطے میں تاخیر عملے کو فوری زمینی مدد کے بغیر فیصلے کرنے کی صلاحیت آزمانے کا موقع دیتی ہے۔

378 دن کی مدت مستقبل کے مریخی مشن کی مکمل طوالت کی نمائندگی نہیں کرتی، تاہم یہ اتنی طویل ہے کہ مسلسل تنہائی اور محدود ماحول کے اثرات کا مفید مشاہدہ کیا جا سکے۔ ناسا حاصل شدہ نتائج کو آئندہ انسانی خلائی پروازوں کی منصوبہ بندی، تربیت اور حفاظتی طریقۂ کار بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

مریخ تک انسان بھیجنے کے لیے ابھی کئی تکنیکی، طبی اور مالی چیلنج باقی ہیں، اس لیے اس تجربے کی تکمیل کو کسی فوری انسانی مریخی مشن کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس کا اہم نتیجہ طویل مدتی انسانی خلائی رہائش کے بارے میں عملی شواہد اور تجرباتی ڈیٹا کا حصول ہے۔