امریکی خلائی ادارے ناسا کے چار رکنی عملے نے ہیوسٹن کے جانسن اسپیس سینٹر میں 378 دن پر محیط مصنوعی مریخ مشن مکمل کر لیا ہے۔ کریو ہیلتھ اینڈ پرفارمنس ایکسپلوریشن اینالاگ، یعنی CHAPEA مشن 2، کے ارکان 19 اکتوبر 2025 کو 158 مربع میٹر کی 3D پرنٹڈ رہائش گاہ میں داخل ہوئے تھے اور ایک سال سے زیادہ عرصہ محدود وسائل اور مریخ جیسے عملی حالات کی نقل کے ساتھ گزارنے کے بعد باہر آئے۔
عملے میں مشن کمانڈر راس ایلڈر، سائنس افسر میتھیو مونٹگمری، میڈیکل افسر ایلن ایلس اور فلائٹ انجینئر جیمز اسپائسر شامل تھے۔ ناسا کے مطابق اس مشق کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ طویل مدت کے خلائی سفر میں خلاباز روزمرہ معمولات، محدود وسائل، الگ تھلگ ماحول اور زمینی ٹیم سے تاخیر والے رابطے کے ساتھ کس طرح صحت مند، مؤثر اور باہم مربوط رہ سکتے ہیں۔
مشن کے دوران عملے نے مصنوعی مریخی مٹی میں فصلیں اگانے، رہائش گاہ کی دیکھ بھال، مختلف آپریشنل سرگرمیوں اور ناسا حکام سے ایسے رابطے کی مشق کی جس میں بین السیاروی مواصلات جیسی تاخیر شامل تھی۔ جانسن اسپیس سینٹر کی ڈائریکٹر وینیسا وائش نے کہا کہ پیغام بھیجنے اور جواب موصول ہونے کے درمیان تاخیر صبر، محتاط منصوبہ بندی اور زیادہ خودمختاری کا تقاضا کرتی ہے، جو مستقبل کے دور دراز خلائی مشنوں کے لیے اہم خصوصیات ہوں گی۔
چاروں ارکان اب تقریباً دو ہفتے کی بعد از مشن جانچ اور تفصیلی بریفنگ میں حصہ لیں گے۔ اس مرحلے میں ناسا کے سائنس دان ان کے جسمانی، نفسیاتی اور عملی تجربات کا جائزہ لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ طویل مدت کی تنہائی اور محدود ماحول انسانی کارکردگی پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہ CHAPEA پروگرام کا دوسرا 378 روزہ مشن تھا۔ اس سے پہلے 2023 سے 2024 کے درمیان ایک اور چار رکنی ٹیم نے اسی نوعیت کی طویل تنہائی مکمل کی تھی۔ ان تجربات کو حقیقی مریخ سفر نہیں سمجھا جاتا؛ یہ زمینی سطح پر تیار کردہ اینالاگ مشن ہیں جن کا مقصد خطرات اور عملی ضروریات کو حقیقی بین السیاروی پرواز سے پہلے بہتر طور پر سمجھنا ہے۔
ناسا 2030 کی دہائی میں انسانوں کو مریخ تک بھیجنے کی طویل مدتی خواہش رکھتا ہے، جبکہ اس سے پہلے چاند پر انسانی واپسی کے منصوبے بھی جاری ہیں۔ CHAPEA سے حاصل ہونے والے نتائج براہ راست کسی مریخ مشن کی تاریخ طے نہیں کرتے، لیکن ادارے کے مطابق یہ طویل خلائی سفر کے لیے رہائش، صحت، ٹیم ورک، وسائل کے استعمال اور مواصلاتی خودمختاری سے متعلق تیاری میں عملی شواہد فراہم کرتے ہیں۔

