اسلام آباد: قومی اسمبلی نے 22 اکتوبر کے اجلاس میں وفاقی انتظامی اور تعلیمی اداروں سے متعلق تین ترمیمی بل منظور کیے ہیں۔ منظور شدہ قانون سازی میں موجودہ قوانین کے بعض انتظامی حوالوں، تقرری کے طریقہ کار اور وفاقی علمی اداروں کی ساخت میں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ یہ بل پارلیمانی عمل کے اگلے مرحلے سے گزریں گے اور آئینی تقاضوں کی تکمیل کے بعد ہی قانون کی شکل اختیار کریں گے۔
منظور شدہ ترامیم میں ایک قانون کے تحت پاکستان کے لیے ایڈمنسٹریٹر اور مخصوص علاقوں کے لیے ایک یا زیادہ ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے، جبکہ تقرری کے اختیار، طریقہ کار اور شرائط کو قواعد کے ذریعے طے کرنے کی تجویز ہے۔ اسی متن میں بعض مقامات پر ’’وفاقی حکومت‘‘ کے بجائے متعلقہ ڈویژن کا حوالہ شامل کیا گیا ہے تاکہ انتظامی ذمہ داری واضح ہو سکے۔
سینٹرز آف ایکسیلنس سے متعلق ترمیمی بل میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تعریف کو تازہ کرنے کے ساتھ متعلقہ ڈویژن کی تعریف شامل کی گئی ہے۔ قانون سازی میں بعض ماہرین کے پینل یا ادارہ جاتی نمائندگی میں کم از کم ایک خاتون ماہر کی شمولیت کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔ بل کے مقاصد میں وفاقی اداروں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے سے متعلق حکومتی پالیسی کا حوالہ دیا گیا ہے۔
پارلیمانی قانون سازی میں کسی بل کی قومی اسمبلی سے منظوری آخری مرحلہ نہیں ہوتی۔ اگر متن پہلے سینیٹ سے اسی شکل میں منظور نہیں ہوا تو اسے دوسرے ایوان کی منظوری درکار ہوتی ہے، اور دونوں ایوانوں سے یکساں متن منظور ہونے کے بعد صدر کی توثیق سے قانون نافذ ہوتا ہے۔ اگر دوسرے ایوان میں ترامیم کی جائیں تو متن دوبارہ پارلیمانی عمل میں واپس آ سکتا ہے۔
ان بلوں کی عملی اہمیت ان انتظامی تبدیلیوں میں ہے جو وفاقی اداروں کے اختیارات، تقرریوں اور نمائندگی کے قواعد کو متاثر کر سکتی ہیں۔ حتمی قانونی اثرات کا تعین منظور شدہ مکمل متن، دوسرے ایوان کی کارروائی اور صدر کی توثیق کے بعد ہی کیا جا سکے گا، اس لیے موجودہ مرحلے کو قومی اسمبلی کی منظوری تک محدود سمجھنا ضروری ہے۔

