اردو ہیڈلائنز ڈیسک

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے ایوان میں کورم کی مسلسل کمی پر تشویش کے تناظر میں کہا ہے کہ حکومتی صفوں میں اس مسئلے کا احساس موجود ہے اور انہیں امید ہے کہ ارکان کی حاضری آئندہ اجلاس میں مزید بہتر ہوگی۔ ان کا بیان منگل 25 اگست کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران سامنے آیا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کی حالیہ کارروائی بار بار ارکان کی ناکافی تعداد سے متاثر ہوئی ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی جب مرکز میں مسلم لیگ ن کی اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات سے متعلق اپنے تحفظات کے باعث کورم اور قانون سازی میں تعاون نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا۔ یہ پیپلز پارٹی کا سیاسی مؤقف ہے اور اسے کسی حتمی پارلیمانی فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

ایاز صادق نے صحافیوں کو بتایا کہ بعض وفاقی وزرا نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ کورم کا معاملہ وزیراعظم کے سامنے اٹھایا گیا اور حکومت کی جانب سے ارکان کی حاضری یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ منگل کو صورتحال میں کچھ بہتری دیکھی گئی اور انہیں توقع ہے کہ اگلے اجلاس میں یہ بہتری مزید واضح ہوگی۔

اسپیکر نے کورم برقرار رکھنے کو صرف حکومت نہیں بلکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری قرار دیا۔ انہوں نے دونوں جانب کے ارکان پر زور دیا کہ وہ اپنے حلقوں اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا فورم استعمال کریں۔ ان کے مطابق ایوان سے دور رہنے کی صورت میں نقصان کسی ایک جماعت کے بجائے مجموعی پارلیمانی عمل کو ہوتا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک سوال میں اسپیکر کے خلاف ممکنہ تحریک عدم اعتماد کا حوالہ بھی دیا گیا۔ ایاز صادق نے جواب دیا کہ ایسی تحریک لانا اپوزیشن کا آئینی حق ہے اور اگر اپوزیشن یہ راستہ اختیار کرتی ہے تو اسے پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق سہولت دی جائے گی۔ انہوں نے کسی تحریک کے بالفعل جمع ہونے یا اس کی کامیابی کا دعویٰ نہیں کیا۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے بارے میں ایاز صادق نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کئی مرتبہ بات چیت کی دعوت دے چکے ہیں، جبکہ وہ خود، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ بھی اپوزیشن سے رابطے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت درخواست کر سکتی ہے، تاہم مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ اپوزیشن نے کرنا ہے۔

کورم سے مراد ایوان کی کارروائی جاری رکھنے کے لیے آئینی طور پر درکار کم از کم حاضری ہے۔ ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے پر اجلاس کی کارروائی متاثر یا ملتوی ہو سکتی ہے۔ موجودہ پیش رفت میں اسپیکر نے بہتری کی امید ظاہر کی ہے، لیکن آئندہ اجلاس کی حقیقی حاضری ہی واضح کرے گی کہ حکومتی یقین دہانی کس حد تک عملی نتیجہ دیتی ہے۔

اردو ہیڈلائنز ڈیسک پارلیمانی کارروائی، کورم کی عملی صورتحال اور حکومت و اپوزیشن کے باضابطہ مؤقف کو الگ الگ حیثیت میں رپورٹ کرتا رہے گا۔