لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے لاہور اور فیصل آباد میں الگ الگ کارروائیوں کے دوران تین افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر خواتین کو سوشل میڈیا کے ذریعے ہراساں، بلیک میل اور بدنام کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ڈان کے مطابق این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے اتوار کو ان کارروائیوں کی تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر کیں۔

ایجنسی کے مطابق ایک ملزم کو لاہور کے انجینئرنگ ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے ملتان کینٹ کی ایک خاتون سے شادی کا جھانسہ دے کر نجی تصاویر اور ویڈیوز حاصل کیں اور بعد ازاں انہیں استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر رقم کا مطالبہ کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے خاتون کے اسنیپ چیٹ اکاؤنٹ تک غیر مجاز رسائی بھی حاصل کی اور اس کے نام سے جعلی ٹک ٹاک اکاؤنٹ بنا کر تصاویر شیئر کیں۔

این سی سی آئی اے کا دعویٰ ہے کہ گرفتار شخص کے قبضے سے لیے گئے موبائل فون میں متاثرہ خاتون کا نجی ڈیٹا ملا ہے۔ ملزم کا تعلق ضلع پاکپتن کے عارف والا سے بتایا گیا ہے۔ یہ تمام نکات تفتیشی ادارے کے الزامات ہیں اور کسی ملزم کو عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے تک مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ایک دوسری کارروائی میں لاہور سے ایک اور شخص کو گرفتار کیا گیا جس پر الزام ہے کہ اس نے ملتان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی تصاویر اور ویڈیوز اس کی رضامندی کے بغیر جعلی چینلز کے ذریعے پھیلائیں۔ حکام کے مطابق اس کے موبائل فون سے بھی متعلقہ تصاویر اور ویڈیوز برآمد کی گئی ہیں، جنہیں تفتیش میں ممکنہ ڈیجیٹل شواہد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تیسری کارروائی فیصل آباد ٹول پلازہ کے قریب کی گئی۔ این سی سی آئی اے کے مطابق وہاں سے گرفتار شخص پر وہاڑی کی ایک خاتون کو واٹس ایپ کے ذریعے بلیک میل کرنے اور اس کی نجی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کرنے کی دھمکیاں دینے کا الزام ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ضبط کیے گئے موبائل فون میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والے واٹس ایپ اکاؤنٹس اور متعلقہ مواد موجود تھا۔

تینوں معاملات الگ الگ واقعات سے متعلق ہیں اور ان میں تفتیشی عمل، ڈیجیٹل فرانزک جانچ اور قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔ آن لائن ہراسانی اور نجی مواد کے غیر رضاکارانہ استعمال کے مقدمات میں ڈیجیٹل شواہد کی صحت، اکاؤنٹس کی نسبت اور شکایت کنندگان کے بیانات اہم قانونی عناصر ہوتے ہیں۔ این سی سی آئی اے نے گرفتاریوں کو سائبر ہراسانی کے خلاف کارروائی کا حصہ قرار دیا ہے، تاہم حتمی ذمہ داری کا تعین متعلقہ عدالتیں دستیاب شواہد کی بنیاد پر کریں گی۔