اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے بچوں کے آن لائن جنسی استحصال سے متعلق ایک سنگین کیس کی تفصیلات جاری کی ہیں، جس میں ایک شخص پر اپنے کم عمر بچوں کی قابل اعتراض ویڈیوز بنا کر آن لائن فروخت کرنے کا الزام ہے۔ ایجنسی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شعیب خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ مرکزی ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

حکام کے مطابق متاثرہ بچوں کی عمریں تقریباً پانچ سے چھ سال تھیں اور مبینہ طور پر تیار کیا گیا مواد ٹیلیگرام کے ذریعے فروخت کیا جاتا تھا۔ NCCIA کا کہنا ہے کہ اس مواد کی ترسیل اور فروخت کے گرد ایک نیٹ ورک بھی قائم ہوا تھا۔ یہ تمام تفصیلات تحقیقاتی حکام کے الزامات اور ابتدائی معلومات پر مبنی ہیں؛ کسی بھی ملزم کے خلاف حتمی مجرمانہ ذمہ داری کا تعین عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔

شعیب خان نے بتایا کہ مرکزی ملزم کا تعلق اسکردو سے ہے جبکہ ملتان، اسلام آباد اور جنوبی پنجاب میں بھی متعلقہ تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے آن لائن جنسی ہراسانی کے ایک الگ کیس میں کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ والدین اور تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل تحفظ سے متعلق آگاہی بڑھانے کے لیے مہم شروع کی جا رہی ہے۔

ایجنسی نے کراچی میں ایک الگ کارروائی کی تفصیلات بھی بتائیں جہاں حکام کے مطابق تین کمپنیاں بچوں سے متعلق فحش اور اینیمیٹڈ مواد کی تیاری میں مبینہ طور پر ملوث تھیں۔ NCCIA کے ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر کے مطابق ان اداروں کے کام کا طریقہ کئی مراحل پر مشتمل تھا اور بیرون ملک گاہک تلاش کرنے کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال کیے جاتے تھے۔

NCCIA کے ڈائریکٹر طارق نواز نے جیو نیوز کو بتایا کہ کراچی کی کارروائی میں 42 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے 13 کو باقاعدہ گرفتار کرکے عدالت سے ریمانڈ حاصل کیا گیا۔ حکام نے ان کمپنیوں پر مواد فروخت کرنے کے بعد بعض گاہکوں کو بلیک میل کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

پریس کانفرنس میں سائبر فراڈ اور غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ کسی شخص کو اپنے بینکنگ OTP یا PIN فراہم نہ کریں۔ بچوں کے استحصال سے متعلق الزامات کی حساس نوعیت کے باعث متاثرہ بچوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور خبر میں بھی ان کی شناخت یا ایسی کوئی تفصیل شامل نہیں کی گئی جو انہیں شناخت کرنے میں مدد دے۔