کراچی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے شارع فیصل پر قائم ایک کال سینٹر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 273 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ کارروائی ایک مبینہ بین الاقوامی مالی فراڈ نیٹ ورک سے متعلق جاری انکوائری کے سلسلے میں کی گئی۔ زیر حراست افراد کے خلاف الزامات ابھی تفتیش کے مرحلے میں ہیں اور ان کے مجرم ہونے کا حتمی فیصلہ عدالت ہی کرسکتی ہے۔

این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ کارروائی 4 نومبر کو کاوش کراؤن پلازہ کے قریب واقع ایک مقام پر کی گئی۔ حکام کے مطابق وہاں ووکسٹرون سلوشنز کے نام سے کال سینٹر کام کررہا تھا۔ ایجنسی نے چھاپے کے دوران 339 لیپ ٹاپ، 152 موبائل فون اور چار کمپیوٹر قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے، جنہیں ڈیجیٹل فارنزک اور تکنیکی جانچ کے لیے سرکاری تحویل میں رکھا گیا ہے۔

ایجنسی کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کال سینٹر کے بعض اہلکار غیر ملکی شہریوں سے رابطہ کرکے خود کو بینکوں یا قرض کی تصدیق کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے نمائندے ظاہر کرتے تھے۔ این سی سی آئی اے کا الزام ہے کہ اس طریقے سے حساس ذاتی اور مالی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی اور بعد میں ان معلومات کو غیر مجاز مالی لین دین کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مبینہ آمدن کمپنی اکاؤنٹس اور ترسیلات کے ذریعے پاکستان منتقل کی جاتی تھی۔ یہ تمام نکات تحقیقاتی ادارے کے ابتدائی دعوے ہیں اور آزاد عدالتی جانچ ابھی باقی ہے۔

این سی سی آئی اے نے بتایا کہ مقدمہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی متعدد دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، جن میں معلوماتی نظام تک غیر مجاز رسائی، ڈیٹا کی غیر مجاز نقل یا ترسیل، الیکٹرانک جعل سازی، الیکٹرانک فراڈ، شناختی معلومات کے غیر مجاز استعمال اور اسپوفنگ سے متعلق دفعات شامل ہیں۔

گرفتاریوں کے بعد ملزمان کے رشتہ داروں اور مقامی افراد نے شارع فیصل کے قریب احتجاج بھی کیا۔ مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ گرفتار افراد میں ایسے ملازمین بھی شامل ہیں جن کا کسی غیر قانونی سرگرمی سے تعلق نہیں تھا اور انہوں نے رہائی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے باعث ٹریفک متاثر ہوا، جسے متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔ پولیس سے مذاکرات کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے اور مرکزی شاہراہ پر ٹریفک بحال کردی گئی۔ معاملے میں گرفتار افراد کی انفرادی ذمہ داری اور مبینہ نیٹ ورک کی نوعیت کا تعین مزید تحقیقات اور عدالتی کارروائی میں ہوگا۔