کراچی: سندھ کابینہ نے سیلاب سے متاثرہ کسانوں کے لیے زرعی آمدن سے متعلق ٹیکس میں ریلیف کی منظوری دے دی ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق اس فیصلے کا مقصد قدرتی آفت سے فصلوں اور آمدن کو پہنچنے والے نقصان کے بعد کاشتکاروں پر مالی دباؤ کم کرنا اور زرعی سرگرمیوں کی بحالی میں مدد فراہم کرنا ہے۔
کابینہ کے اجلاس میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال، فصلوں کے نقصانات اور کسانوں کو درپیش مالی مشکلات پر غور کیا گیا۔ حکومت نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ریلیف کے نفاذ کے لیے واضح طریقہ کار اپنایا جائے تاکہ اہل کاشتکاروں تک سہولت پہنچ سکے۔ زرعی آمدن پر ٹیکس صوبائی دائرہ اختیار میں آتا ہے اور حالیہ عرصے میں صوبوں نے اس کے نظام اور وصولی کے طریقہ کار میں تبدیلیوں پر بھی کام کیا ہے۔
سندھ کی معیشت میں زراعت کا بڑا حصہ ہے اور کپاس، چاول، گندم، گنا اور مختلف باغاتی فصلیں لاکھوں خاندانوں کی آمدن سے وابستہ ہیں۔ سیلاب اور شدید بارشوں سے فصلیں، آبپاشی کا بنیادی ڈھانچہ، دیہی سڑکیں اور مویشی متاثر ہونے کی صورت میں کسانوں کو اگلی فصل کی تیاری کے لیے بیج، کھاد اور دیگر زرعی مداخل پر اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ٹیکس میں ریلیف کو اسی مالی دباؤ کو کم کرنے کے اقدامات کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت نے کہا ہے کہ زرعی بحالی صرف فوری مالی امداد تک محدود نہیں بلکہ متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور کسانوں کی پیداواری صلاحیت بحال کرنا بھی ضروری ہے۔ متعلقہ محکموں سے کہا گیا ہے کہ نقصانات کے دستیاب ریکارڈ اور اہلیت کے قواعد کے مطابق ریلیف کی فراہمی یقینی بنائیں۔ اس عمل میں زمین اور زرعی آمدن کے سرکاری ریکارڈ اہم کردار ادا کریں گے۔
کابینہ کی منظوری کے بعد اب فیصلے کے انتظامی نفاذ اور مستحق کسانوں کی شناخت کا مرحلہ اہم ہوگا۔ ریلیف کی حقیقی مالی قدر کا انحصار متاثرہ کاشتکاروں کی تعداد، نقصانات کے تخمینے اور صوبائی ٹیکس قواعد کے تحت دی جانے والی رعایت کی تفصیلات پر ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سیلاب سے متاثرہ زرعی علاقوں میں بحالی اور اگلے کاشت کے موسم کے لیے کسانوں کی مالی گنجائش بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
