اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے کہا ہے کہ جعلی خبروں اور اس کے بقول ’ریاست مخالف پروپیگنڈا‘ کی روک تھام کے لیے خصوصی یونٹس قائم کیے گئے ہیں، جبکہ آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے تمام ریجنز میں سائبر پٹرولنگ یونٹس کو فعال کر دیا گیا ہے۔ یہ معلومات ایجنسی کے ترجمان کے حوالے سے 5 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ میں سامنے آئیں۔
ایجنسی کے مطابق ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی نے پنجاب کے مختلف سرکلز کا پانچ روزہ دورہ کیا، جس میں رپورٹنگ مراکز، پولیس اسٹیشنز اور دفاتر کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ اس دوران ڈی جی نے پانچ سو سے زیادہ شکایت کنندگان سے براہِ راست ملاقاتیں بھی کیں اور شکایات کے اندراج، تصدیق اور تفتیشی عمل سے متعلق انتظامی امور کا جائزہ لیا۔
رپورٹ کے مطابق ڈی جی NCCIA نے شکایات اور تصدیق کے نظام کو زیادہ عوام دوست بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ سائبر کرائم سے متاثرہ افراد کو بروقت انصاف فراہم کرنے کے لیے دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں۔ انہوں نے زیرِ التوا شکایات اور مقدمات، انویسٹی گیشن برانچ، کمپلینٹ سیل، ایف آئی آر برانچ، ریکارڈ مینجمنٹ اور دیگر انتظامی پہلوؤں کی کارکردگی بھی دیکھی۔
ایجنسی نے جعلی خبروں اور مبینہ ریاست مخالف پروپیگنڈا کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی اپنانے کا بیان دیا ہے۔ یہ اصطلاح اور اس کا دائرہ NCCIA کا سرکاری مؤقف ہے؛ دستیاب رپورٹ میں کسی مخصوص فرد، اکاؤنٹ یا زیرِ تفتیش کیس کو مثال کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس خبر میں کسی شخص یا گروہ کے خلاف غیر ثابت شدہ الزام شامل نہیں کیا جا رہا۔
نئے یونٹس کی عملی ساخت، اہلکاروں کی تعداد، تکنیکی نظام، قانونی طریقۂ کار یا نگرانی کے دائرۂ اختیار کی مکمل تفصیل بھی رپورٹ میں موجود نہیں۔ تاہم ایجنسی کا کہنا ہے کہ تمام ریجنز میں سائبر پٹرولنگ فعال ہے اور کارکردگی، شکایات کے تصفیے اور ریکارڈ کی بہتری کے لیے مزید ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ یہ اقدام پاکستان میں آن لائن جرائم اور ڈیجیٹل مواد کی نگرانی سے متعلق ریاستی ادارہ جاتی سرگرمیوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔
