اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور بالائی خیبر پختونخوا میں آئندہ 72 گھنٹوں کے دوران شدید بارش، فلیش فلڈ، ملبے کے بہاؤ اور لینڈ سلائیڈنگ کے امکان پر الرٹ جاری کیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے 4 ستمبر کے ارلی وارننگ صفحے پر ان علاقوں کے لیے فلیش اور اربن فلڈ کا خطرہ ”شدید“ درج کیا گیا۔ یہ خطرے کی پیش گوئی ہے، کسی مخصوص مقام پر سیلاب آنے کی تصدیق نہیں۔
این ای او سی کے مطابق پہاڑی علاقوں میں موسلا دھار بارش سے دریاؤں، ندی نالوں اور موسمی گزرگاہوں میں پانی اچانک بڑھ سکتا ہے۔ گلگت بلتستان میں گلگت، دیامر، غذر، ہنزہ، استور، سکردو اور شگر کو ممکنہ فلیش فلڈ کے حساس علاقوں میں شمار کیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر میں باغ، پونچھ، مظفرآباد، حویلی، بھمبر، سدھنوتی، میرپور اور کوٹلی کے لیے بھی احتیاط کی ہدایت ہے۔
خیبر پختونخوا میں چترال، دیر، سوات، باجوڑ، مہمند، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور ہری پور میں تیز بارش کے بعد اچانک سیلاب یا لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ نچلے اور شہری علاقوں کے لیے خطرے کی نوعیت مختلف ہے: نوشہرہ، پشاور، صوابی اور مردان میں نکاسی کے نظام پر دباؤ، سڑکوں پر پانی جمع ہونے اور کم سطح کی آبادیوں میں اربن فلڈنگ کا امکان بتایا گیا ہے۔
الرٹ میں دریائے سندھ، کابل، سوات، پنجکوڑہ، کرم، توچی، جہلم، چناب اور راوی میں بہاؤ بڑھنے کی پیش گوئی بھی شامل ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بارش کی صورت میں نالہ لئی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پانی کی حقیقی سطح اور سیلاب کی درجہ بندی مسلسل مشاہدے سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر دریا میں یکساں یا لازماً سیلابی حالت فرض نہیں کی جا سکتی۔
این ڈی ایم اے نے صوبائی اور مقامی اداروں کو حساس مقامات کی مسلسل نگرانی، ضروری سازوسامان پہلے سے پہنچانے، ریسکیو عملے کو تیار رکھنے اور ضرورت پڑنے پر محفوظ انخلا کے انتظامات برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ پہاڑی راستوں پر مٹی کے تودے اور پتھر گرنے سے آمدورفت متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ تیز بہاؤ پلوں، عارضی گزرگاہوں اور ندی نالوں کے قریب آبادیوں کے لیے فوری خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔
عوام کو ندی، نالوں، دریا کناروں اور نشیبی علاقوں میں غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز، بچوں اور مویشیوں کو تیز پانی سے دور رکھنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ سیاحوں اور مسافروں کے لیے ضروری ہے کہ روانگی سے پہلے موسم اور سڑک کی تازہ صورتِ حال دیکھیں، کیونکہ پہاڑی ضلع میں بارش ختم ہونے کے بعد بھی اوپر سے آنے والا پانی یا لینڈ سلائیڈ راستہ بند کر سکتی ہے۔
الرٹ کی مدت کے دوران حالات ضلع بہ ضلع مختلف رہ سکتے ہیں۔ بارش کی مقدار، زمین کی پہلے سے موجود نمی، نالوں کی گنجائش اور پہاڑی ڈھلوانوں کی حالت اصل اثر کا تعین کریں گی۔ این ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 051-111-157-157 اور سرکاری ڈیزاسٹر الرٹ نظام تازہ ہدایات کے لیے دستیاب ہیں۔ انتظامیہ اور شہریوں کے لیے بنیادی پیغام پیشگی تیاری اور مصدقہ مقامی اطلاع پر فوری ردعمل ہے۔




