پیرس: اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے ایک نئے جائزے میں واضح طور پر کہا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد سے تجاوز کرے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں عالمی کمی اتنی تیز نہیں رہی کہ اس حد کو عبور ہونے سے روکا جا سکے، اس لیے پالیسی کی توجہ اب صرف ’اوور شوٹ‘ روکنے سے ہٹ کر اسے محدود اور منظم کرنے پر بھی مرکوز ہونی چاہیے۔
تقریباً 200 ممالک نے پیرس معاہدے کے تحت عالمی حدت کو 1.5 ڈگری کے قریب محدود رکھنے کی کوشش کا عزم کیا تھا کیونکہ سائنس دان اس سے زیادہ حدت کو انسانی معاشروں، قدرتی نظاموں اور شدید موسمی واقعات کے لیے زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس پہلے بھی قریبی برسوں میں عارضی تجاوز کے خدشے کا اظہار کر چکے تھے، مگر نئی UNEP جائزہ رپورٹ اس نتیجے کو زیادہ غیر مبہم انداز میں پیش کرتی ہے۔
رپورٹ کے شریک مصنف رچرڈ بیٹس کے مطابق دنیا کو زیادہ گرم ماحول کی حقیقت کے لیے تیار رہنا ہوگا، لیکن حدت کی مقدار محدود کرنے کے لیے اب بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے ماہرین نے زور دیا کہ موسمیاتی حکمرانی، قومی منصوبوں اور موافقت کی حکمت عملیوں کو ایسے راستے کے مطابق دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے جس میں 1.5 ڈگری کی حد عارضی طور پر عبور ہو سکتی ہے۔
چھوٹے جزیرہ نما اور ساحلی ترقی پذیر ممالک نے رپورٹ پر خاص تشویش ظاہر کی کیونکہ سمندر کی سطح میں اضافہ، شدید گرمی اور طوفانی خطرات ان کے لیے فوری وجودی مسئلہ بن سکتے ہیں۔ ایسے ممالک کا مؤقف ہے کہ 1.5 ڈگری کا ہدف محض علامتی عدد نہیں بلکہ نقصانات محدود رکھنے کے لیے ایک اہم حفاظتی حد ہے، اس لیے تجاوز کی توقع کو اخراج میں کمی کی کوششیں کم کرنے کا جواز نہیں بننا چاہیے۔
UNEP کے مطابق نظریاتی طور پر 1.5 ڈگری سے تجاوز کے بعد عالمی درجہ حرارت دوبارہ نیچے لایا جا سکتا ہے، مگر اس کے لیے تیز اور بڑے پیمانے پر اخراج میں کمی کے ساتھ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ نکالنے کے طریقوں کی بھی ضرورت پڑے گی۔ رپورٹ کے انتہائی پرامید منظرنامے میں بھی درجہ حرارت کو اس صدی میں واپس 1.5 ڈگری تک لانے سے پہلے تقریباً 1.8 ڈگری تک چوٹی چھونے کا امکان بیان کیا گیا ہے۔
کاربن ہٹانے کے طریقوں میں جنگلات کی بحالی اور تکنیکی حل شامل ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی مطلوبہ بڑے پیمانے پر دستیابی، لاگت اور پائیداری کے بارے میں غیر یقینی موجود ہے۔ اسی لیے رپورٹ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مستقبل میں کاربن ہٹانے پر انحصار اخراج میں فوری کمی کا متبادل نہیں۔ پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کے لیے یہ عالمی پیش رفت موافقت، آفات سے تحفظ اور بین الاقوامی موسمیاتی مالیات کی ضرورت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔




