اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں کے لیے 72 گھنٹے کا بارش اور ممکنہ سیلابی صورت حال کا الرٹ جاری کیا ہے۔ پیش گوئی کے مطابق شدید بارش، گرج چمک اور تیز ہواؤں کے باعث پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں کا بہاؤ اچانک بڑھ سکتا ہے، جبکہ فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے کے بہاؤ کا خطرہ موجود ہے۔

این ڈی ایم اے نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک خطرے کی پیش گوئی اور احتیاطی انتباہ ہے، کسی تمام نامزد علاقوں میں سیلاب آنے کی تصدیق نہیں۔ بارش کی شدت اور مقام میں تبدیلی کے باعث اثرات ہر ضلع میں یکساں نہیں ہوں گے۔ مقامی انتظامیہ، محکمہ موسمیات اور آبی پیمائش کے تازہ اعداد کسی مخصوص مقام کی صورت حال کے لیے بنیادی رہنمائی فراہم کریں گے۔

گلگت بلتستان میں گلگت، دیامر، غذر، ہنزہ، استور، اسکردو، شگر اور ملحقہ حساس علاقوں میں اچانک سیلاب کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ پہاڑی ڈھلوانوں اور تنگ وادیوں میں شدید بارش کے دوران مٹی کے تودے اور ملبہ سڑکوں، پلوں اور آبادیوں تک پہنچ سکتا ہے، جس سے سفری راستے عارضی طور پر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

آزاد کشمیر میں باغ، پونچھ، مظفرآباد، حویلی، بھمبر، سدھنوتی، میرپور اور کوٹلی کو حساس مقامات میں شامل کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں چترال، دیر، سوات، باجوڑ، مہمند، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور ہری پور میں فلیش فلڈ یا لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بتایا گیا ہے۔ نوشہرہ، پشاور، صوابی اور مردان کے نشیبی شہری علاقوں اور رابطہ سڑکوں پر پانی جمع ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا۔

این ای او سی نے آئندہ 72 گھنٹوں میں دریائے سندھ، کابل، سوات، پنجکوڑہ، کرم، ٹوچی، جہلم، چناب اور راوی میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔ بڑے دریاؤں کے ساتھ ملنے والے مقامی نالوں اور موسمی آبی گزرگاہوں میں بھی سطح تیزی سے بلند ہو سکتی ہے۔ کسی مقام پر سیلاب کی حتمی شدت کا تعین بارش، بالائی علاقوں سے آنے والے پانی اور مقامی نکاسی کی گنجائش سے ہوگا۔

راولپنڈی اور اسلام آباد میں بارش کے بعد نالہ لئی میں پانی کا بہاؤ نمایاں طور پر بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ متعلقہ محکموں کو نشیبی آبادیوں کی نگرانی، نکاسی کے راستے کھلے رکھنے اور ضرورت پڑنے پر بروقت انتباہ جاری کرنے کی ہدایت دی گئی۔ نالہ لئی کے لیے الرٹ ممکنہ خطرے سے متعلق ہے؛ اس وقت ہر نشیبی علاقے میں پانی داخل ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

این ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ سے کہا ہے کہ حساس مقامات پر ضروری مشینری، ریسکیو عملہ اور امدادی وسائل پہلے سے پہنچائے جائیں اور محفوظ انخلا کے انتظامات تیار رکھے جائیں۔ پہاڑی علاقوں میں سڑک بند ہونے، پل متاثر ہونے یا آبادی کا رابطہ منقطع ہونے کے امکانات کے پیش نظر مقامی رابطہ نظام اور متبادل راستوں کو فعال رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

شہریوں، سیاحوں اور مسافروں کو دریا کناروں، برساتی نالوں، موسمی آبی گزرگاہوں اور تیز بہاؤ سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ این ڈی ایم اے نے خبردار کیا کہ سیلابی سڑک، پل یا نالے کو پیدل یا گاڑی میں عبور نہ کیا جائے، کیونکہ کم گہرا دکھائی دینے والا تیز پانی بھی لوگوں اور گاڑیوں کو بہا سکتا ہے۔ شدید بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز اور روانگی سے پہلے موسم و سڑک کی تازہ صورت حال معلوم کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

عوام سے سرکاری موسمی انتباہات، ضلعی انتظامیہ کی ہدایات اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ کی معلومات پر نظر رکھنے کو کہا گیا ہے۔ پیش گوئی کی مدت کے دوران مقامی سطح پر صورتحال بدل سکتی ہے، اس لیے سوشل میڈیا کی غیر مصدقہ اطلاعات کے بجائے این ڈی ایم اے، محکمہ موسمیات، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں اور ضلعی حکام کی اپ ڈیٹس پر انحصار ضروری ہوگا۔