اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بلوچستان کے ساحلی علاقے گڈانی میں شپ بریکنگ یارڈ کی 12 ارب روپے کی جدیدکاری کے منصوبے پر عملی تعمیراتی کام شروع کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے 3 ستمبر 2026 کو منصوبے کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ نفاذ فعال خریداری اور تعمیر کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ اعلان منصوبے کی تکمیل کا نہیں بلکہ پہلے سے منظور شدہ اسکیم پر زمینی کام شروع ہونے کا ہے۔
وزارتِ بحری امور کے مطابق ابتدائی تعمیراتی سرگرمیوں میں 30 بستروں کا ہسپتال، مزدوروں کے لیے رہائشی کالونی، ایک اسکول اور شمسی توانائی کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہے۔ منصوبے میں سماجی سہولتوں کے ساتھ صنعتی اور ماحولیاتی انفراسٹرکچر بھی رکھا گیا ہے تاکہ پرانے بحری جہازوں کو توڑنے کے روایتی طریقوں کو زیادہ محفوظ، منظم اور ماحول دوست شپ ری سائیکلنگ نظام میں بدلا جا سکے۔
منصوبے کے دائرۂ کار میں تقریباً 32 کلومیٹر اندرونی سڑکیں، ایک عوامی پارک، خطرناک اور صنعتی فضلے کے ٹریٹمنٹ نظام، فائر اور ریسکیو اسٹیشن، پانی کی فراہمی اور الگ واٹر ٹریٹمنٹ سہولتیں شامل ہیں۔ یہ عناصر گڈانی میں کام کرنے والے مزدوروں کی بنیادی خدمات، حادثاتی ردعمل اور سمندر و ساحل کو آلودہ کرنے والے مواد کے انتظام سے متعلق ہیں۔ ہر جزو کی تکمیل، آزمائش اور عملی فعالیت الگ تعمیراتی مراحل سے مشروط ہوگی۔
پراجیکٹ ڈائریکٹر سعید احمد عمرانی نے کمیٹی کو بتایا کہ مالی سال 2026–27 کے وفاقی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام میں اسکیم کے لیے 78 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ رقم 12 ارب روپے کی مجموعی منظور شدہ لاگت کا ایک حصہ ہے، پوری لاگت نہیں۔ باقی فنڈنگ منصوبے کے مرحلہ وار سرکاری مالی انتظام اور آئندہ اجرا سے جڑی ہوگی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مقصد گڈانی کو ایسے جدید شپ ری سائیکلنگ مرکز میں بدلنا ہے جو بین الاقوامی حفاظتی اور ماحولیاتی معیارات سے ہم آہنگ ہو۔ ان کے مطابق یارڈ پاکستان کی اسٹیل اسکریپ منڈی اور متعلقہ سپلائی چین میں اہم کردار رکھتا ہے، مگر صنعت کو عالمی تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے مزدوروں کی حفاظت، خطرناک مواد کی علیحدگی، فضلہ تلف کرنے اور ہنگامی خدمات میں بنیادی بہتری ضروری ہے۔ یہ اہداف حکومتی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں؛ معیار پر مکمل عمل درآمد کی تصدیق تعمیر اور آزاد معائنے کے بعد ہی ہو سکے گی۔
گڈانی میں پرانے جہاز ساحل پر لا کر کاٹے جاتے رہے ہیں، جس سے قابلِ استعمال اسٹیل اور دوسرے مواد کی مقامی فراہمی ہوتی ہے۔ تاہم ساحلی طریقۂ کار میں آگ، دھماکوں، زہریلے مادوں اور آلودہ پانی کے خطرات کے باعث صنعت کو طویل عرصے سے حفاظتی اور ماحولیاتی تنقید کا سامنا رہا ہے۔ تازہ اسکیم انہی ساختی مسائل کو ہسپتال، فائر و ریسکیو، سڑک، پانی اور فضلہ انتظام کے مشترکہ پیکیج سے حل کرنے کی کوشش ہے۔
اسٹیئرنگ کمیٹی کا کام فنڈز، خریداری، تعمیر اور مختلف سرکاری اداروں کے درمیان رابطے کی نگرانی کرنا ہے۔ سرکاری بیان میں پورے منصوبے کی حتمی تکمیل کی متعین تاریخ یا ہر تعمیراتی پیکیج کی الگ پیش رفت فیصد جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے موجودہ مصدقہ مرحلہ اہم سہولتوں پر کام اور خریداری کا آغاز ہے، نہ کہ یارڈ کا مکمل بین الاقوامی معیار حاصل کر لینا۔
آئندہ پیش رفت کا عملی پیمانہ ہسپتال اور مزدور سہولتوں کی تکمیل، فضلہ و پانی کے ٹریٹمنٹ نظام کی فعالی، ہنگامی اسٹیشنوں کی استعداد، فنڈز کے بروقت اجرا اور شپ ری سائیکلنگ پلاٹس میں حفاظتی طریقوں کے نفاذ سے طے ہوگا۔




