کھٹمنڈو: نیپال کو چین سے ملحق شمالی سرحدی علاقے میں تباہ کن گلیشیئر سیلاب کے بعد تقریباً 20 ہزار گھر محفوظ مقامات پر دوبارہ تعمیر کرنا ہوں گے۔ نیپالی حکام نے 3 ستمبر 2026 کو بتایا کہ کم از کم 7,500 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ متاثرہ بستیوں میں باقی ہزاروں گھر یا تو رہائش کے قابل نہیں رہے یا مستقبل کے سیلابی خطرے کے باعث موجودہ جگہ پر بحال نہیں کیے جا سکتے۔
یہ آفت 26 اگست کو اس وقت شروع ہوئی جب حکام اور ماہرین کے مطابق ایک بڑے گلیشیئر کے انہدام سے برف، چٹان، مٹی اور پانی کا شدید ریلا نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں آیا۔ سیلاب نے دریائی وادیوں میں آباد قصبوں، دیہات، سڑکوں، پلوں اور پن بجلی کے منصوبوں کو نقصان پہنچایا۔ گلیشیئر کا انہدام ابتدائی طور پر ممکنہ محرک قرار دیا گیا ہے؛ واقعے کی مکمل سائنسی نسبت اور سلسلۂ اسباب پر تحقیق جاری رہ سکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق 3 ستمبر تک نیپال میں کم از کم 1,252 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی اور 4,200 سے زیادہ افراد لاپتا تھے۔ ان میں سینکڑوں غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔ چین نے تبت میں 21 ہلاکتوں اور 541 لاپتا افراد کی اطلاع دی۔ یہ اعداد امدادی کارروائی کے دوران جاری کیے گئے عبوری شمار ہیں اور شناخت، رابطے کی بحالی اور ملبہ ہٹنے کے ساتھ تبدیل ہو سکتے ہیں۔
تلاش کا ایک بڑا مرکز دریائے تریشولی کے ساتھ واقع پن بجلی منصوبوں کی سرنگیں ہیں، جہاں تقریباً 900 کارکنوں کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ ملبے اور پانی کے باعث اندر پھنس گئے یا ان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ امدادی ٹیموں نے ایک سرنگ سے لاشیں نکالی ہیں، مگر دشوار گزار علاقہ، تباہ سڑکیں اور بھاری ملبہ کام کو سست کر رہے ہیں۔ نیپالی فوج کے 9,300 سے زیادہ اہلکار متاثرہ اضلاع میں تلاش، انخلا اور رسد کی کارروائیوں میں تعینات کیے گئے۔
حکومت نے کہا کہ گھروں کی تعمیر نو صرف پرانی جگہ پر عمارتیں کھڑی کرنے تک محدود نہیں ہو گی۔ انتہائی خطرے والے دریائی کناروں اور ڈھلوانوں سے خاندانوں کو منتقل کرنے، زمین کی جانچ، نئی سڑکوں، پانی و بجلی کی سہولت اور محفوظ بستیوں کی منصوبہ بندی بھی درکار ہو گی۔ 20 ہزار گھروں کا عدد ابتدائی ضرورت کا تخمینہ ہے؛ حتمی لاگت اور تعمیراتی مدت تفصیلی نقصان سروے کے بعد سامنے آئے گی۔
متاثرہ بچوں کی تعلیم اور صحت بھی فوری مسئلہ بن گئی ہے۔ رائٹرز نے یونیسیف کے حوالے سے بتایا کہ 22 ہزار سے زیادہ بچوں کو صاف پانی، نکاسیٔ آب اور حفظانِ صحت کی فوری مدد درکار ہے۔ حکام عارضی اور محفوظ مقامات پر تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ہزاروں بے گھر افراد امدادی مراکز یا عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔
نیپال نے 7 ستمبر کو قومی یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ چین، بھارت، آسٹریلیا اور دیگر شراکت داروں سے امداد اور تکنیکی مدد پہنچ رہی ہے۔ حکومت کو ساتھ ہی لاپتا افراد کی شناخت، سرنگوں میں تلاش، سڑکوں اور پلوں کی بحالی، بجلی کے نظام اور متاثرہ خاندانوں کے لیے طویل مدتی رہائش پر کام کرنا ہے۔
ہمالیائی خطہ بلند درجۂ حرارت، گلیشیئر پگھلنے اور گلیشیائی جھیلوں کے خطرات کے لیے حساس ہے، لیکن کسی ایک واقعے کو براہِ راست موسمیاتی تبدیلی سے منسوب کرنے کے لیے مخصوص سائنسی تجزیہ ضروری ہوتا ہے۔ موجودہ تباہی نے بہرحال خطرے کی نقشہ بندی، پیشگی انتباہ، پن بجلی منصوبوں کی حفاظتی منصوبہ بندی اور آبادی کو غیر محفوظ وادیوں سے منتقل کرنے کی فوری ضرورت نمایاں کر دی ہے۔




