نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، این ڈی ایم اے، نے ملک کے شمالی حصوں میں اگلے دو سے تین دن کے دوران شدید بارش، فلیش فلڈ، شہری سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔ 3 ستمبر 2026 کو نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بھاری بارش کا امکان ہے۔

گلگت بلتستان میں گلگت، دیامر، غذر، ہنزہ، استور، اسکردو اور شگر کو حساس علاقوں میں شامل کیا گیا ہے۔ این ڈی ایم اے نے خبردار کیا کہ شدید یا مختصر مدت میں مرکوز بارش پہاڑی نالوں میں اچانک پانی بڑھا سکتی ہے، جبکہ کمزور ڈھلوانوں پر مٹی اور پتھر کھسکنے سے سڑکیں اور رابطہ راستے متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ خطرے کی پیش گوئی ہے؛ ہر نامزد ضلع میں سیلاب یا لینڈ سلائیڈنگ کا وقوع یقینی قرار نہیں دیا گیا۔

آزاد کشمیر میں باغ، پونچھ، مظفرآباد، حویلی، بھمبر، سدھنوتی، میرپور اور کوٹلی کے حساس مقامات کے لیے سیلابی خطرہ برقرار رہنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ پہاڑی بستیوں، ندی نالوں کے قریب آبادیوں اور ایسے راستوں پر جہاں پہلے بھی پانی یا ملبہ جمع ہوتا رہا ہو، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر فوری عمل کرنے کو کہا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں چترال، دیر، سوات، باجوڑ، مہمند، شانگلہ، کوہستان، ایبٹ آباد اور ہری پور کے بعض علاقوں میں فلیش فلڈ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ بارش کے دوران سیاحتی مقامات، دریا کنارے عارضی قیام، کچے راستوں اور آبی گزرگاہوں کو عبور کرنا خاص طور پر خطرناک ہو سکتا ہے۔ این ڈی ایم اے نے غیر ضروری نقل و حرکت محدود رکھنے اور ضلع انتظامیہ کی تازہ معلومات دیکھنے کی ہدایت کی ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں متوقع بارش کے باعث نالہ لئی میں پانی کا بہاؤ بلند ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا۔ نالہ لئی کے اطراف نشیبی شہری آبادیوں میں خطرے کی سطح اصل بارش کی شدت، دورانیے اور بالائی کیچمنٹ سے آنے والے پانی پر منحصر ہوگی۔ شہریوں کو مقامی سائرن، ٹریفک بندش، انخلا یا دیگر ہدایات کو معمولی نہ سمجھنے اور بچوں کو برساتی نالوں سے دور رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

این ڈی ایم اے نے گلیشیائی دریاؤں، ندی نالوں، برساتی گزرگاہوں اور دیگر بلند خطرے والے مقامات کے قریب غیر ضروری آمدورفت سے اجتناب کی تاکید کی۔ پہاڑی علاقوں میں سفر سے پہلے سڑک کی حالت معلوم کرنا، گاڑی میں ضروری سامان رکھنا، موبائل فون چارج رکھنا اور خاندان کو سفر کا راستہ بتانا بنیادی احتیاطی اقدامات میں شامل ہو سکتے ہیں۔ کسی تیز بہاؤ والے نالے یا زیرِ آب سڑک کو گاڑی یا پیدل عبور کرنا خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

اتھارٹی نے شہریوں سے کہا کہ وہ موسم، ابتدائی انتباہات اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایات سے باخبر رہیں۔ تازہ اطلاعات کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ استعمال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ این ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن اور صوبائی و ضلعی ایمرجنسی ادارے ہنگامی حالات میں رابطے کے سرکاری ذرائع ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ ویڈیوز یا پرانی تصاویر کو موجودہ صورتحال سمجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔

یہ الرٹ 2 ستمبر کی این ڈی ایم اے موسمی ایڈوائزری اور جاری مون سون نگرانی کے تسلسل میں سامنے آیا ہے۔ اس کا مقصد ممکنہ خطرے سے پہلے اداروں اور عوام کو تیار کرنا ہے۔ بارش کی اصل مقدار اور مقامی اثرات میں تبدیلی ممکن ہے، اس لیے ایک دفعہ جاری ہونے والی پیش گوئی کے بجائے تازہ سرکاری بلیٹن اور مقامی مشاہدات زیادہ اہم ہوں گے۔

موجودہ تصدیق شدہ صورتحال یہ ہے کہ این ڈی ایم اے نے اگلے دو سے تین دن کے لیے متعدد شمالی اضلاع میں فلیش فلڈ و لینڈ سلائیڈنگ اور اسلام آباد–راولپنڈی میں نالہ لئی کے بلند بہاؤ کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اس اعلان میں کسی نئی جانی نقصان، مکمل ہونے والی تباہی یا لازمی انخلا کی ملک گیر ہدایت نہیں دی گئی؛ یہ پیشگی احتیاط، مقامی تیاری اور خطرے والے مقامات سے دور رہنے کا انتباہ ہے۔