اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر، این ای او سی، نے گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور بالائی خیبرپختونخوا میں آئندہ 72 گھنٹوں کے دوران شدید بارش اور ممکنہ سیلابی صورتِ حال کا الرٹ جاری کیا ہے۔ 2 ستمبر 2026 کی سرکاری تنبیہ میں کہا گیا کہ پہاڑی علاقوں میں تیز بارش دریاؤں، ندیوں، موسمی نالوں اور مقامی آبی گزرگاہوں کے بہاؤ میں اچانک اضافہ کر سکتی ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان میں گلگت، دیامر، غذر، ہنزہ، استور، اسکردو اور شگر کے بعض مقامات پر فلیش فلڈ کا خطرہ ہے۔ آزاد کشمیر میں باغ، پونچھ، مظفرآباد، حویلی، بھمبر، سدھنوتی، میرپور اور کوٹلی کو حساس علاقوں میں شمار کیا گیا، جبکہ خیبرپختونخوا میں چترال، دیر، سوات، باجوڑ، مہمند، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور ہری پور کے لیے احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔

الرٹ میں واضح کیا گیا کہ خطرہ صرف پانی کی سطح بڑھنے تک محدود نہیں۔ مسلسل یا بہت تیز بارش سے پہاڑی ڈھلوانوں پر لینڈ سلائیڈنگ، مٹی اور پتھروں کے تودے، ملبے کے ریلے اور سڑکوں کی بندش بھی ہو سکتی ہے۔ ندی نالوں کے قریب آبادیاں، نشیبی علاقے، رابطہ سڑکیں اور سیاحتی راستے نسبتاً زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ خطرات پیش گوئی کی بنیاد پر بیان کیے گئے ہیں؛ الرٹ جاری ہونا اس بات کی تصدیق نہیں کہ ہر نامزد ضلع میں لازماً سیلاب آئے گا۔

این ای او سی نے نیشنل اور مقامی دریائی نظام میں بھی بہاؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا۔ جن آبی گزرگاہوں کا ذکر کیا گیا ان میں دریائے سندھ، کابل، سوات، پنجکوڑہ، کرم، توچی، جہلم، چناب اور راوی شامل ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بارش کے باعث نالہ لئی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے اور قریبی نشیبی آبادیوں میں پانی داخل ہونے کا خطرہ بتایا گیا۔

پشاور، نوشہرہ، صوابی اور مردان کے بعض نشیبی علاقوں کے لیے اربن فلڈنگ کی تنبیہ بھی جاری کی گئی ہے۔ متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور امدادی اداروں کو ضروری مشینری، کشتیاں، طبی امداد اور انخلا کے وسائل حساس مقامات کے قریب پیشگی رکھنے اور مقامی آبادیوں تک بروقت انتباہ پہنچانے کی ہدایت کی گئی۔ پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب کے محدود ردِعمل وقت کے باعث تیاری کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔

این ڈی ایم اے نے شہریوں، سیاحوں اور مسافروں کو دریاؤں، نالوں، پلوں اور تیز بہاؤ والے پانی سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔ لوگوں سے کہا گیا کہ زیرِ آب سڑک یا نالہ پیدل یا گاڑی میں عبور کرنے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ بظاہر کم گہرا مگر تیز پانی بھی افراد اور گاڑیوں کو بہا سکتا ہے۔ غیر ضروری سفر مؤخر کرنے، بند راستوں کے بارے میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات ماننے اور روانگی سے پہلے موسم و سڑکوں کی تازہ صورتِ حال معلوم کرنے کی تاکید کی گئی۔

اتھارٹی نے کہا کہ وہ صوبائی و علاقائی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور پیش گوئی میں تبدیلی کی صورت میں تازہ معلومات جاری کی جائیں گی۔ اس الرٹ کا عملی مقصد ممکنہ آفت کی پیشگی تیاری ہے؛ کسی مخصوص مقام پر حقیقی خطرے کی شدت بارش کی مقدار، دورانیے، زمین کی نمی، دریائی بہاؤ اور مقامی جغرافیے کے مطابق بدل سکتی ہے۔