اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر، خیبر پختونخوا، پوٹھوہار اور پنجاب کے مختلف علاقوں کے لیے شدید بارش، فلیش فلڈ اور شہری سیلاب سے متعلق تازہ انتباہ جاری کیے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی ویب سائٹ پر 4 ستمبر 2026 کو جاری الرٹس میں شمالی پہاڑی علاقوں کے لیے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جبکہ پوٹھوہار اور پنجاب کے شہری علاقوں کے لیے قلیل مدت میں پانی جمع ہونے کے خطرے کی نشاندہی کی گئی۔ یہ پیش گوئی اور خطرے کا انتباہ ہے؛ اسے ہر درج علاقے میں سیلاب واقع ہونے یا نقصان کی تصدیق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

این ڈی ایم اے کی ایڈوائزری کے مطابق گلگت بلتستان میں گلگت، دیامر، غذر، ہنزہ، استور، اسکردو اور شگر، آزاد کشمیر میں باغ، پونچھ، مظفرآباد، حویلی، بھمبر، سدھنوتی، میرپور اور کوٹلی جبکہ خیبر پختونخوا میں چترال، دیر، سوات، باجوڑ، مہمند، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور ہری پور سمیت متعدد اضلاع بارش سے پیدا ہونے والے خطرات کی زد میں آ سکتے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں تیز بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی، مٹی اور پتھروں کے تودے، سڑکوں کی بندش اور کمزور ڈھلوانوں پر لینڈ سلائیڈنگ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

پشاور، نوشہرہ، صوابی اور مردان جیسے شہری مراکز میں نشیبی مقامات پر پانی جمع ہونے کا خطرہ بتایا گیا، جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے لیے نالہ لئی اور اس سے منسلک نکاسی آب کے راستوں میں اچانک بہاؤ بڑھنے کی نگرانی کی ہدایت دی گئی۔ پوٹھوہار اور پنجاب کے لیے 24 گھنٹے کی شہری اور فلیش فلڈ ایڈوائزری میں مقامی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور نکاسی آب کے محکموں کو حساس مقامات پر تیاری برقرار رکھنے کا کہا گیا ہے۔

این ڈی ایم اے نے دریائے سندھ، کابل، سوات، پنجکوڑہ، کرم، ٹوچی، جہلم، چناب اور راوی کے بالائی یا معاون بہاؤ میں اضافے کے امکان کی بھی نشاندہی کی۔ کسی دریا میں حتمی سیلابی درجہ پانی کی حقیقی آمد، اخراج اور متعلقہ فلڈ فورکاسٹنگ مراکز کی پیمائش سے طے ہوتا ہے۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے 5 ستمبر کی صورتحال میں دریائے سندھ پر کالا باغ اور چشمہ کے مقامات پر کم درجے کے سیلاب کی اطلاع دی، جبکہ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران بالائی دریائی کیچمنٹس، اسلام آباد، کشمیر، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے کئی حصوں میں کہیں کہیں شدید سے بہت شدید بارش کا امکان ظاہر کیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون سرگرمی 6 ستمبر سے بتدریج کم ہونے کی توقع ہے، مگر مقامی سطح پر مختصر دورانیے کی تیز بارش بھی نالوں، پلوں اور نشیبی سڑکوں پر فوری خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔ موسم کی پیش گوئی میں مقامی فرق ممکن ہے، اس لیے شہریوں کو ضلع انتظامیہ، پی ایم ڈی، این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے تازہ پیغامات دیکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ریسکیو ٹیمیں، مشینری اور ضروری سامان حساس علاقوں کے قریب تیار رکھنے، نکاسی آب کے راستے صاف رکھنے اور ضرورت پڑنے پر بروقت انخلا کے انتظامات مکمل کرنے کا کہا ہے۔ عوام سے دریا، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں کے کناروں سے دور رہنے، زیر آب سڑک یا پل عبور نہ کرنے، پہاڑی سفر سے پہلے راستے کی صورتحال معلوم کرنے اور غیر ضروری سفر محدود رکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔

الرٹ کی مدت ختم ہونے سے پہلے خطرہ مکمل طور پر ٹل جانے کا مفروضہ درست نہیں ہوگا۔ بارش، دریا کے بہاؤ، ڈیم اخراج اور مقامی نکاسی کی صورتحال میں تبدیلی کے ساتھ انتباہ بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ کسی مخصوص مقام پر سیلاب، جانی نقصان یا املاک کے نقصان کی تصدیق صرف متعلقہ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ادارے یا سرکاری فلڈ بلیٹن سے کی جانی چاہیے۔