وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے اسلام آباد کے زیرزمین آبی ذخائر میں مسلسل کمی کے پیش نظر بارش کا پانی زمین میں اتارنے والے ریچارج کنوؤں کا دائرہ بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ ’’اسلام آباد کے آبی ذخائر کا تحفظ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں انہوں نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں تقریباً 200 ریچارج کنویں تعمیر کیے گئے ہیں، مگر اس ابتدائی اقدام کو شہر کی مکمل آبی ضرورت کا حل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

سرکاری بیان کے مطابق وزیر نے ریچارج مداخلت سے پانی کی سطح میں اندازاً 0.4 ملی میٹر اضافے کا حوالہ دیا، جبکہ زیرزمین سطح کی کمی تقریباً 1.5 میٹر بتائی گئی۔ اعلامیے نے ان دونوں اعداد کی مدت، پیمائش کے مقامات اور طریقۂ کار کی تفصیل نہیں دی، اس لیے انہیں وزارت کے پیش کردہ ابتدائی تخمینے کے طور پر پڑھنا چاہیے۔ دونوں پیمانوں کے نمایاں فرق کی وجہ سے حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ تعداد کو کہیں بڑے پیمانے پر بڑھانا ہوگا تاکہ پہلے کمی کی رفتار گھٹے اور پھر ممکنہ طور پر رجحان پلٹ سکے۔

ریچارج کنواں بارش یا سطحی بہاؤ کے پانی کو مناسب فلٹریشن کے بعد زمین میں منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا عملی فائدہ مقام کی ارضی ساخت، پانی کے معیار، بارش کی مقدار، تعمیر اور مسلسل دیکھ بھال پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر آلودہ پانی براہ راست زیرزمین ذخیرے تک پہنچے تو صحت اور ماحول کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، اسی لیے معیار کی نگرانی، تلچھٹ کی صفائی اور محفوظ ڈیزائن کسی بھی بڑے توسیعی پروگرام کے اہم حصے ہوں گے۔ سرکاری بیان میں نئے کنوؤں کی تعداد، لاگت یا تکمیل کی مدت کا اعلان نہیں کیا گیا۔

مصدق ملک نے حالیہ شدید بارشوں کے بعد سطحی اور زیرزمین پانی کے مشترکہ انتظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق دارالحکومت میں تقریباً 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی اور متعدد علاقے سیلابی صورت حال سے متاثر ہوئے۔ متعلقہ اداروں کو ردعمل کی ہدایت دی گئی، لیکن پریس ریلیز نے نقصانات، متاثرین یا امدادی کارروائی کے تفصیلی اعداد فراہم نہیں کیے۔ بارش کے پانی کو محفوظ طور پر ذخیرہ یا ریچارج میں استعمال کرنا شہری سیلاب اور پانی کی قلت دونوں سے متعلق منصوبہ بندی کا حصہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ نکاسی اور معیار کے تقاضے ساتھ پورے ہوں۔

وزیر نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں چلنے والے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کا ذکر کرتے ہوئے پانی کے معیار پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے ایک اضافی ٹریٹمنٹ پلانٹ کے کئی برس سے التوا اور بار بار ٹینڈرنگ کا حوالہ دیا، جبکہ بتایا کہ حالیہ عرصے میں ٹینڈر کا عمل آگے بڑھا ہے۔ ٹینڈرنگ جاری ہونا تعمیر یا آپریشن کی تکمیل نہیں؛ منصوبے کی حتمی حیثیت معاہدہ، فنڈنگ، تعمیر اور کمیشننگ کے بعد واضح ہوگی۔

وزارت نے ’’کلین انوائرمنٹ فنڈ‘‘ قائم کرنے کی اطلاع بھی دی جس میں نجی شعبے کی شرکت اور سرمایہ کاری سے پہلے مناسب جانچ شامل ہوگی۔ مصدق ملک نے نئی آبادیوں، ہاؤسنگ اسکیموں اور عمارتوں کی چھتوں پر بارش کے پانی کی ریچارج سہولت کی حوصلہ افزائی کے لیے قانون سازی کی حمایت کی۔ یہ پالیسی سمت ہے؛ کسی نئے لازمی قانون یا عمارت ضابطے کے نفاذ کی تصدیق نہیں کی گئی۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت تقریباً 200 موجودہ کنوؤں کا سرکاری حوالہ، ان کی توسیع کی ہدایت، اضافی ٹریٹمنٹ پلانٹ کی ٹینڈرنگ میں پیش رفت اور قانون سازی کی حمایت ہے۔ اسلام آباد کے آبی ذخائر میں واقعی کتنی بہتری آتی ہے، اس کا قابلِ اعتماد تعین مسلسل سطحِ آب، ریچارج مقدار اور پانی کے معیار کے شفاف اعداد سے ہوگا۔