پیرس: فرانس کی حکومت نے 2026 کی ریکارڈ گرمی، شدید خشک سالی اور جنگلاتی آگ سے متاثر کسانوں اور زرعی پیداوار کے لیے ایک ارب یورو سے زائد کا غیر معمولی امدادی پیکیج اعلان کیا ہے۔ وزیر زراعت اینی ژنیوار نے 4 ستمبر کو ’کلائمیٹ، ایڈاپٹیشن، ڈراؤٹ اینڈ فائرز‘ یا CASI منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فوری مقصد غیر معمولی نقصانات کی تلافی، زرعی کاروباروں کو دیوالیہ ہونے سے بچانا اور اگلے پیداواری سیزن کے لیے بیج، چارہ اور دوسرے مداخل فراہم کرنا ہے۔
وزارت زراعت کے مطابق قومی یکجہتی کے تحت زرعی نقصان کی ادائیگی کے نظام ISN کے لیے ابتدائی طور پر 520 ملین یورو درکار ہونے کا تخمینہ ہے۔ ادائیگیاں تیز کرنے، نقصانات کی شناخت کے عمل میں سہولت اور بیمہ شدہ کسانوں کے لیے عبوری ادائیگی کی حد متوقع معاوضے کے 70 فیصد سے بڑھا کر 80 فیصد کرنے کا اعلان کیا گیا۔ غیر بیمہ شدہ مستقل فصلوں، انگور کے باغات اور جانوروں کے بعض نقصانات کے لیے زرعی آفات کے نظام سے 30 ملین یورو الگ رکھے گئے ہیں۔
پیکیج میں غیر تعمیر شدہ زرعی زمین کے ٹیکس میں مقامی سطح پر 300 ملین یورو سے زیادہ کی رعایت بھی شامل ہے۔ پیداوار دوبارہ شروع کرنے کے لیے 235 ملین یورو کا علاقائی بحالی فنڈ قائم کیا جائے گا، جسے صوبائی اور ضلعی حکام مقامی نقصان کے مطابق استعمال کریں گے۔ یہ فنڈ جانوروں کی خوراک، چارہ، بیج، پودے اور دوسرے ضروری زرعی مداخل کی خرید میں مدد دے گا اور موسمِ گرما کی آگ سے متاثر فارمز کے لیے بھی حصہ رکھے گا۔
حکومت نے زرعی سماجی تحفظ کے واجبات میں 20 ملین یورو مدد، مشکل میں گھرے کسانوں کے لیے ادائیگی کے انفرادی شیڈول اور نفسیاتی و سماجی معاونت کا بھی اعلان کیا۔ نائٹروجن کھاد کی خرید کے غیر معمولی امدادی پروگرام کو 31 دسمبر تک بڑھایا گیا، جبکہ زرعی ڈیزل پر 15 یورو سینٹ فی لیٹر معاونت اکتوبر تک جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ ان اقدامات کی اہلیت، درخواست اور ادائیگی ہر متعلقہ اسکیم اور علاقائی انتظامیہ کے قواعد کے مطابق ہوگی؛ اعلان خود تمام رقم فوراً ہر فارم کے کھاتے میں پہنچنے کی تصدیق نہیں۔
فرانسیسی وزارت کے مطابق جولائی کا قومی اوسط درجہ حرارت 24.9 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جو 2003 اور 1976 کے سابق تاریخی حوالوں سے زیادہ تھا۔ ملک کے تقریباً 65 فیصد رقبے نے غیر معمولی خشک سالی کا سامنا کیا، 95 انتظامی شعبوں میں پانی کی پابندیاں لگیں اور موسم کے عروج پر 79 شعبے ’بحران‘ کی درجہ بندی میں تھے۔ کئی علاقوں میں پیداوار کا اوسط نقصان 50 فیصد اور چارے کے ذخائر معمول سے نصف سے زیادہ کم بتائے گئے۔ یہ قومی و علاقائی تخمینے ہیں؛ ہر فصل اور فارم کا حقیقی نقصان مختلف ہوگا۔
رائٹرز کے مطابق وزیر زراعت نے 30 ہزار سے 35 ہزار فارم مالی مشکل میں ہونے کا اندازہ دیا، جبکہ بڑے کسان اتحاد FNSEA نے مجموعی کھوئی ہوئی پیداوار کم از کم 10 ارب یورو بتائی۔ مویشی اور قابلِ کاشت فصلوں کے شعبوں نے الگ الگ پانچ ارب یورو سے زیادہ نقصان کا تخمینہ پیش کیا۔ یہ صنعتی اور ابتدائی اندازے ہیں، حتمی سرکاری آڈٹ نہیں۔ وزارت خزانہ نے کہا کہ گرم اور خشک موسم 2026 کی معاشی شرحِ نمو سے تقریباً 0.1 فیصد پوائنٹ کم کر سکتا ہے، مگر اسے بھی باضابطہ نئی معاشی پیش گوئی کے بجائے ابتدائی تخمینہ قرار دیا گیا۔
فرانس نے 2026 کو پیمائش شروع ہونے کے بعد گرم ترین موسمِ گرما قرار دیا ہے۔ موجودہ پیکیج فوری نقدی اور اگلی فصل کی تیاری پر مرکوز ہے، جبکہ دیرپا کامیابی کا دارومدار پانی کے انتظام، فصلوں اور مویشیوں کی موسمی موافقت، بیمہ کی رسائی اور امداد کی بروقت تقسیم پر ہوگا۔ اگلا قابلِ پیمائش مرحلہ علاقائی فنڈز کا اجرا، منظور شدہ دعووں کی تعداد اور 2027 کے پیداواری رقبے و پیداوار میں بحالی ہے۔




