اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، این ڈی ایم اے، کے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور بالائی خیبر پختونخوا کے لیے 72 گھنٹے کا ممکنہ سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور شدید بارش کا الرٹ جاری کیا ہے۔ الرٹ 2 اور 3 ستمبر کو جاری ہونے والی موسمی پیش گوئیوں کی بنیاد پر 5 ستمبر تک کے خطرے کی مدت کا احاطہ کرتا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق پہاڑی علاقوں میں گرج چمک، تیز ہوا اور شدید بارش دریاؤں، ندی نالوں اور موسمی گزرگاہوں میں پانی کے بہاؤ کو اچانک بڑھا سکتی ہے۔ کم وقت میں زیادہ بارش کے باعث فلیش فلڈ، ملبے کے بہاؤ اور لینڈ سلائیڈنگ کا امکان بھی ہے۔ یہ پیش گوئی خطرے کی نشاندہی ہے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر درج علاقے میں لازماً سیلاب واقع ہوگا۔
گلگت بلتستان میں گلگت، دیامر، غذر، ہنزہ، استور، اسکردو اور شگر کو حساس علاقوں میں شامل کیا گیا۔ آزاد کشمیر میں باغ، پونچھ، مظفرآباد، حویلی، بھمبر، سدھنوتی، میرپور اور کوٹلی میں تیز بارش کے بعد اچانک سیلاب یا مقامی آبگرفتگی کا امکان بتایا گیا۔ خیبر پختونخوا میں چترال، دیر، سوات، باجوڑ، مہمند، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور ہری پور کے بعض مقامات کو خطرے میں قرار دیا گیا ہے۔
الرٹ میں نوشہرہ، پشاور، صوابی اور مردان کے نشیبی شہری علاقوں اور رابطہ سڑکوں پر پانی جمع ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں بارش کی صورت میں نالہ لئی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کے امکان پر متعلقہ محکموں کو چوکس رہنے کی ہدایت دی گئی۔ مقامی اثرات بارش کی شدت، مقام اور دورانیے کے مطابق مختلف ہوسکتے ہیں۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے دریائے سندھ، کابل، سوات، پنجکوڑہ، کرم، ٹوچی، جہلم، چناب اور راوی میں پانی کے بہاؤ بڑھنے کی پیش گوئی کی۔ بڑے دریاؤں کے ساتھ ملحق نالوں اور چھوٹی آبی گزرگاہوں میں سطح نسبتاً تیزی سے بلند ہوسکتی ہے، خصوصاً پہاڑی کیچمنٹ میں شدید بارش کے بعد۔ دریا کی مجموعی سطح اور مقامی فلیش فلڈ دو الگ خطرات ہیں اور دونوں کے لیے متعلقہ انتظامیہ کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
این ڈی ایم اے نے صوبائی اور ضلعی اداروں کو حساس مقامات پر امدادی سامان، مشینری اور عملہ پہلے سے تعینات کرنے، محفوظ انخلا کے راستے تیار رکھنے اور نشیبی آبادیوں تک بروقت وارننگ پہنچانے کی ہدایت کی۔ پہاڑی علاقوں میں سڑک بند ہونے، مٹی یا پتھر گرنے اور پلوں یا گزرگاہوں کے متاثر ہونے کے امکان پر ٹریفک اور سیاحتی انتظامیہ کو بھی پیشگی تیاری کا کہا گیا ہے۔
عوام، سیاحوں اور مسافروں کو دریا کناروں، تیز بہاؤ والے نالوں، موسمی آبی راستوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے حساس ڈھلوانی علاقوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا۔ سیلابی سڑک، پل یا نالہ پیدل یا گاڑی سے عبور نہ کرنے کی ہدایت کی گئی، کیونکہ بظاہر کم گہرا مگر تیز پانی بھی انسان یا گاڑی کو بہا سکتا ہے۔ سفر سے پہلے موسم اور سڑکوں کی تازہ صورتحال دیکھنے اور انتظامیہ کی بند کردہ شاہراہ استعمال نہ کرنے پر زور دیا گیا۔
اتھارٹی نے شہریوں کو سرکاری موسمی اپ ڈیٹس، ضلعی انتظامیہ کی ہدایات اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ پر نظر رکھنے کو کہا ہے۔ خبر مرتب ہونے تک یہ اطلاع احتیاطی الرٹ تھی؛ نقصان، ہلاکت یا مخصوص مقام پر سیلاب کی کوئی مجموعی تصدیق اس اعلان کا حصہ نہیں۔ اس لیے زمینی صورتحال کے لیے تازہ مقامی و سرکاری اطلاع کو ترجیح دینا ضروری ہے۔




